menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Soobon Ka Qayam, Nizam Ki Bhi Khabar Lein

50 0
08.08.2026

نئے صوبوں کاقیام، نظام کی بھی خبر لیں

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اہم حکومتی وزیرکے پھینکے گئے ایک دانے پرسب ٹوٹ پڑے ہیں۔ نئے صوبوں کے حوالے سے اس وقت مختلف سیاسی جماعتیں، علاقائی تنظیمیں اور سماجی حلقے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ میدان میں موجودہیں۔ کہیں صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کہیں پنجاب اورسندھ میں الگ صوبے بنانے کی بات ہو رہی ہے توکہیں ملک کے دیگر علاقوں کے لئے بھی نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیاجارہاہے۔ نئے صوبوں کے مطالبے اپنی جگہ مگراصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کے قیام سے واقعی ہمارے یہ مسائل حل اوربیٹھاہواسسٹم اٹھ جائے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں آبادی، رقبے اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر وقتاً فوقتاً نئے صوبے، ریاستیں یا انتظامی اکائیاں قائم کی جاتی رہی ہیں۔ اس کا مقصد عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے اگر ملک میں صوبہ ہزارہ کی طرح دیگرکسی علاقے میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے لیکن یہاں ایک اہم اور بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ نئے صوبوں کی بنیاد لسانی، نسلی یا تعصبانہ سوچ نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اگر صوبوں کی تقسیم زبان، نسل یا علاقائی جذبات کی بنیاد پر........

© Daily Urdu