Ehtejaj Nahi Riyasat Par Hamla
احتجاج نہیں ریاست پرحملہ
ریاست توماں جیسی ہوتی ہے بھلاماں کوبھی کوئی آنکھیں دکھاتااوراس پرہاتھ اٹھاتاہے؟ ماں کیلئے تواولادجان دیتی ہے پھر یہ کیسے نافرمان اور ناحلف بچے ہیں کہ جواپنی ہی ماں یعنی ریاست کوبے جان کرنے پرتلے ہوئے ہیں۔ ہم نے توآج تک ماں اورریاست میں کوئی فرق نہیں کیانہ ہی ریاست نے کبھی کوئی فرق محسوس ہونے دیا۔ جس طرح ماں اپنی اولاد کی پرورش اور حفاظت کرکے ہر مشکل گھڑی میں ان کے لئے ڈھال بن جاتی ہے اسی طرح ریاست بھی اپنے شہریوں کے حقوق، سلامتی اور مستقبل کی ضامن ہوتی ہے۔
اولاد کو اگر ماں سے کوئی شکایت ہو تو وہ اس پرہاتھ اٹھانے یاآنکھیں دکھاکراس کے وجود کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ بات چیت اور اصلاح کا راستہ اختیار کیاجاتاہے۔ کتناہی میں میں توتواورلڑائی جھگڑاکیوں نہ ہوماں پرپھربھی کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔ آزادکشمیرکے حالیہ واقعات اورحالات کودیکھ کراس ملک وقوم کے ہر باشعور اوردرددل رکھنے والے شہری کو خود سے یہ سوال کرناچاہیئے کہ کیا کوئی اپنی ماں کے خلاف اسلحہ اٹھاتا ہے؟ کیاکوئی اپنی ماں کوکمزورکرنے، اسے نقصان پہنچانے یاپھراس کی عزت اوروقارکومجروح کرنے کی کوشش کرتاہے؟ نہیں ہرگزنہیں۔
احتجاج، ہڑتال اوراختلاف رائے یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ہرمعاشرے کاحسن ہے جبکہ انسانوں کی موجودگی میں مسائل کاوجودایک مسلمہ حقیقت لیکن ان مسائل کے حل کاراستہ تصادم، تشدد، نفرت، گولی، گالی، توڑپھوڑاورجلاؤگھیراؤنہیں بلکہ مذاکرات، صبر، اعتماد، برداشت اور قانون کی پاسداری ہی ہے۔ ریاست جتنی مضبوط ہوگی عوام اتنے ہی محفوظ اور باوقار ہوں گے۔ اس لئے........
