menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dimagh Ke 24 Darwaze

19 0
25.05.2026

ایک موسیقار ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکل رہا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے مگر اس کے بجائے کہ وہ اپنا ہاتھ بیوی کے سر پر رکھتا۔ وہ اپنی بیوی کو اٹھا کر اپنے سر پر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹوپی سمجھ کر۔ یہ کوئی لطیفہ نہیں۔ یہ ایک حقیقی مریض کی کہانی ہے اور یہ کہانی اس لئے بتائی جارہی ہے کہ دماغ جب کسی ایک جگہ سے ٹوٹ جائے تو آپ کی پوری دنیا، چہرے، چیزیں، اپنا جسم، اپنا ماضی سب کچھ غائب ہو سکتا ہے۔ انسان پھر بھی جیتا رہتا ہے کوئی نیا راستہ ڈھونڈ لیتا ہے، کوئی نئی دنیا بنا لیتا ہے مگر وہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔

برطانوی ماہرِ اعصاب اولیور نے 1985 میں یہ کتاب لکھی چوبیس مریضوں کی کہانیاں، چوبیس دروازے جو دماغ کی ان گہرائیوں میں کھلتے ہیں جہاں ہم عام زندگی میں کبھی نہیں جاتے۔ نیویارک ٹائمز نے انہیں "طب کا شاعر" کہا اور یہ بات تب سمجھ آتی ہے جب آپ ان کی کتاب کو پڑھتے ہیں۔ اولیور نے اپنے مریضوں کو صرف "کیس" نہیں سمجھا۔ انہوں نے ہر مریض میں ایک انسان دیکھا جو اپنی دنیا ٹوٹنے کے بعد پھر بھی کچھ نہ کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔

اولیور 1933 میں لندن میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں باپ اور ماں دونوں ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے آکسفرڈ سے طب پڑھی، پھر امریکہ آ گئے اور کولمبیا یونیورسٹی میں کلینیکل پروفیسر بنے۔ مگر اولیور محض ایک ڈاکٹر نہیں تھے۔ وہ ایک لکھاری بھی تھے جو یقین رکھتے تھے کہ سائنس کی سب سے بڑی حقیقتیں کبھی کبھی ایک اچھی کہانی میں زیادہ واضح ہوتی ہیں بجائے کسی تحقیقی مقالے کے۔ ان کا طریقہ روایتی نہیں تھا۔ جب دوسرے ڈاکٹر مریض کی فائل پڑھتے تھے تو اولیور مریض کی زندگی پڑھتے تھے۔ وہ مریض سے گھنٹوں بات کرتے، اس کے گھر جاتے، اس کی موسیقی سنتے، اس کی مصوری دیکھتے۔ ان کا یقین تھا: بیماری صرف ایک خرابی نہیں وہ ایک ایسا آئینہ ہے جو دکھاتا ہے کہ جب کوئی چیز غائب ہو تو باقی دماغ کیا کرتا ہے اور یہی سوال اس کتاب کی روح ہے۔

کتاب چار حصوں میں تقسیم ہے ہر حصہ دماغ کی ایک مختلف حالت کو دیکھتا ہے۔ پہلا حصہ "نقصانات" جب دماغ کا کوئی حصہ کام کرنا بند کر دے۔ دوسرا "زیادتیاں" جب دماغ کوئی کام بہت زیادہ کرنے لگے۔ تیسرا "سفر" جب دماغ ایسی دنیا میں چلا جائے جو باہر موجود نہیں۔ چوتھا "سادہ لوگوں کی دنیا" وہ جنہیں دنیا "کم عقل" کہتی ہے مگر جن کے اندر کوئی چھپی ہوئی صلاحیت ہے۔ آئیں ہر حصے کی سب سے اہم اور چونکا دینے والی کہانی دیکھتے ہیں۔

پہلی کہانی ڈاکٹر پی کی ہے وہی آدمی جس نے بیوی کو ٹوپی سمجھا۔

ڈاکٹر پی ایک مشہور موسیقار اور موسیقی کے استاد........

© Daily Urdu