menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khamosh Qatil Ka Muhasira

28 0
23.10.2026

لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر اضلاع میں ہر سال اکتوبر کے آخر سے سموگ کا ایک ایسا مسئلہ سر اٹھاتا ہے جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ شہر کی فضا میں گرد اور دھوئیں کی دبیز تہیں چھا جانے سے نہ صرف حدِ نگاہ کم ہو جاتی ہے بلکہ عام شہریوں کو سانس لینے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے چند روز میں ایئر کوالٹی انڈیکس کئی مقامات پر تین سو سے تجاوز کر گیا جو طبی ماہرین کی نظر میں شدید تشویش کا باعث ہے۔ یہ معاملہ محض موسمی تغیر تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی صحت اور عوامی فلاح سے جڑا ایک ایسا اہم موضوع بن چکا ہے جس پر سنجیدہ اور مسلسل توجہ وقت کی اولین ضرورت ہے۔

طبی تحقیق اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق فضا میں موجود انتہائی باریک ذرات جنہیں پی ایم 2.5 کہا جاتا ہے کی سالانہ اوسط مقدار پانچ مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے شہری علاقوں میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مقدار کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور بسا اوقات دو سو سے تین سو مائیکرو گرام سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ماحولیاتی ریسرچ اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلسل خراب فضا میں رہنے سے شہریوں کی اوسط عمر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص طور پر دمے، نزلہ، زکام اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے صورتحال زیادہ........

© Daily Urdu