menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Artificial Intelligence Aur Rozgar Ka Mustaqbil

23 0
16.10.2026

آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روزگار کا مستقبل

جب دنیا میں کوئی نئی ٹیکنالوجی قدم رکھتی ہے تو انسان کی پہلی پریشانی یہی ہوتی ہے کہ اب اس کی روٹی روزی کا کیا بنے گا۔ کچھ عرصے سے ہمارے اردگرد بھی ایسا ہی شور برپا ہے جہاں ہر دوسرا شخص یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ اگلے دس سال میں انسانوں کا کام ختم ہو جائے گا اور مشینیں ہر چیز پر قابض ہو جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے جیسے کل صبح اٹھ کر انسان کو دفتر جانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ اس کی کرسی پر کوئی روبوٹ بیٹھ چکا ہوگا۔ اس خوف کو ہوا دینے میں سیلیکون ویلی کے ان ارب پتیوں کا بھی ہاتھ ہے جو بات کو ذرا زیادہ ہی رنگین بنا کر پیش کرنے کے عادی ہیں۔ ایلون مسک جیسے لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہیومنائیڈ روبوٹس ہر طرف پھیل جائیں گے اور انسان کے لیے کام کرنا ایک شوق بن کر رہ جائے گا اور حکومتیں گھر بیٹھے وظیفے بانٹیں گی۔

سننے کی حد تک یہ باتیں کسی سائنس فکشن فلم کی کہانی جیسی لگتی ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی سچ یہی ہے؟ اگر ہم جذباتی ہونے اور ڈرنے کے بجائے ہوش کے ناخن لیں تو تصویر اتنی بھیانک نہیں جتنی بتائی جا رہی ہے۔ ایلون مسک بڑے دماغ والے کاروباری آدمی ضرور ہیں لیکن ماضی گواہ ہے کہ وہ وقت کا حساب لگانے میں اکثر مار کھا جاتے ہیں۔ ان کی پرانی پیشگوئیاں اٹھا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے دو سال کہتے ہیں اسے حقیقت بننے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اربوں روبوٹس بنا کر دنیا کی فیکٹریوں اور دفاتر میں کھڑا کر دینا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے درکار........

© Daily Urdu