menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

World Order Ki Raakh Aur Qibla e Awal Ki Pukar

15 0
previous day

ورلڈ آرڈر کی راکھ اور قبلہ اول کی پکار

تاریخ کے ماتھے پر ثبت یہ معرکہ محض دو قوتوں کا ٹکرا نہیں بلکہ باطل کے غرور اور حق کی استقامت کے درمیان وہ لکیر ہے جس نے فرعونِ وقت کے تکبر کو خاک میں ملا دیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے اپنی نام نہاد ناقابلِ تسخیر ٹیکنالوجی کے زعم میں ایران کی سرزمیں پر شب خون مارنے کی جسارت کی تو انہیں گماں تھا کہ ان کے جدید ترین دفاعی نظام اور سٹیلتھ طیارے فضائوں میں حاکمیت کی نئی داستان رقم کریں گے مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

ایران کے صبر و استقامت نے جب انتقام کی صورت اختیار کی تو مغرب کا وہ سحر ٹوٹ گیا جو دہائیوں سے دنیا کی آنکھوں پر مسلط تھا۔ ایرانی عقابوں نے جب صیہونی ریاست اور امریکی اڈوں پر اپنے آتشیں تھپیڑوں کا رخ کیا تو وہ جدید ترین ریڈار اور پیٹریاٹ میزائل سسٹم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے جن پر واشنگٹن اور تل ابیب کو ناز تھا۔ آسمان سے برستی ان بجلیوں نے نہ صرف اسرائیل کے دفاعی حصار کی دھجیاں اڑائیں بلکہ وائٹ ہائوس کے ایوانوں میں وہ لرزہ طاری کیا جس کی بازگشت صدیوں سنائی دے گی۔

یہ حملہ اتنا شدید اور ہمہ گیر تھا کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا اور ان کی عسکری برتری کا جنازہ سرِعام نکل گیا۔ بحیرہ عرب سے لے کر مقبوضہ فلسطین کی گلیوں تک امریکی ہیمونی اور اسرائیلی تکبر کا غرور پاش پاش ہو چکا ہے۔ یہ شکست محض مادی نقصان نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی موت ہے جو ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر کمزور اقوام کو ہراساں کرتا تھا۔ آج دنیا کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ کس طرح ایک غیرت مند قوم نے جدید ترین اسلحے کے ڈھیر کو ناکارہ بنا کر ثابت کر دیا کہ فتح مشینوں کی نہیں بلکہ ایمان اور حوصلے کی ہوتی ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل کو تاریخ کی بدترین اور عبرت ناک تذلیل سے دوچار کر دیا ہے۔

تاریخ کے افق پر ابھرتا ہوا نیا سورج اس حقیقت کی نوید دے رہا ہے کہ وقت کے فرعونوں کی رسی دراز تو ہو سکتی ہے مگر دائمی نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا وہ اسلحہ خانہ جو کبھی دنیا کو ڈرانے کے لیے کافی سمجھا جاتا تھا اب اپنی تاثیر کھو رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ان کے بارود کی بو خود انہی کے ایوانوں کا دم گھونٹ دے گی۔ خطے کی بدلتی ہوئی ہوائوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب عرب ممالک کی غیرت بیدار ہو چکی ہے اور وہ ان اجنبی سایوں کو اپنی مقدس سرزمین سے بے دخل کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں کیونکہ جب ضمیر جاگتے ہیں تو سپر پاورز کے غرور ریت کے گھروندوں کی طرح ڈھے جاتے ہیں۔

اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا جو جانی اور مالی نقصان ہوا ہے وہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کی عالمی ساکھ کا جنازہ ہے جس نے ان کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے افسانے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔ اب ان کی موجودگی کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا اور وہ دن قریب ہے جب ان کے جدید ترین ٹینک اور طیارے کباڑ خانوں کی زینت بنیں گے کیونکہ حق کی طاقت کے سامنے باطل کا زوال نوشتہ دیوار ہے جو اب دنیا کی آنکھوں کے سامنے ایک عبرت ناک حقیقت بن کر ابھرنے والا ہے جس کے بعد اس خطے میں صرف امن اور خودداری کا راج ہوگا۔

گریٹر اسرائیل کا وہ ناپاک خواب جو مظلوموں کے لہو سے سینچا گیا تھا اب خود اپنے ہی بوئے ہوئے کانٹوں کی نذر ہو رہا ہے کیونکہ قدرت کا ترازو کبھی خطا نہیں کرتا اور غزہ کی گلیوں میں بہنے والے معصوم بچوں کے خون نے وہ طوفان برپا کر دیا ہے جس نے صیہونی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ وہی مکافاتِ عمل ہے جس کی زد میں اب وہ تمام فرعونی قوتیں آ چکی ہیں جنہوں نے انسانیت کی تذلیل کو اپنا منشور بنا رکھا تھا۔

نیو ورلڈ آرڈر کا وہ طلسم جو دہائیوں سے دنیا کو ذہنی غلامی میں جکڑے ہوئے تھا ایران کی غیرت اور فولادی عزم کے ہاتھوں پاش پاش ہو چکا ہے۔ تاریخ سنہری حروف میں یہ رقم کرے گی کہ مظلوم کی آہ جب عرشِ الٰہی تک پہنچتی ہے تو پھر بڑے بڑے ایوان لرز اٹھتے ہیں۔ اب امریکہ اور اسرائیل کی شکست و ریخت کا یہ منظر نامہ محض ایک جنگی ناکامی نہیں بلکہ اس عالمی ظلم کے خاتمے کا آغاز ہے جس نے کرہ ارض کو جہنم بنا رکھا تھا حق و باطل کا یہ معرکہ اب اپنے منطقی انجام کی طرف گامزن ہے جہاں باطل کی ہلاکت اور حق کی ابدی فتح کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔

وہ وقت اب آن پہنچا ہے جب ظلم کی کالی رات اپنے انجام کو چھونے والی ہے اور واشنگٹن کے ایوانوں میں بچھا ہوا وہ بساطِ غرور الٹنے کو ہے جس نے دہائیوں تک انسانیت کا لہو پی کر خود کو سپر پاور کہلوایا تھا۔ امریکہ کی وہ کرسی اب لرز رہی ہے جس پر بیٹھ کر اس نے معصوم بچوں کی چیخوں اور ماں کی اجڑی ہوئی گودوں کا تماشہ دیکھا اور اب قدرت کا وہ بے آواز کوڑا حرکت میں آ چکا ہے جس کے سامنے ایٹمی طاقتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔

تاریخ کے اس نئے موڑ پر اب ابھرتا ہوا بلاک جس میں مشرق کے غیرت مند سپوت اور مخلص دوست شامل ہیں دنیا کی تقدیر بدلنے کو تیار ہے جبکہ وہ صیہونی ریاست جس نے قبلہ اول کی بے حرمتی اور نہتے فلسطینیوں کے لہو سے ہولی کھیلی اب اپنے ہی پیدا کردہ خوف کے جہنم میں بھسم ہو رہی ہے۔ یہودیوں کی ان تمام سازشوں کا سورج اب غروب ہو رہا ہے جنہوں نے عالمِ اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے زہر افشانی کی تھی مگر اب مسلمانوں کی بیداری اور حق کی پکار نے باطل کے اس نیو ورلڈ آرڈر کو خاک میں ملا دیا ہے۔

یہ آنسو جو آج ہماری آنکھوں میں ہیں یہ محض دکھ کے نہیں بلکہ اس نویدِ سحر کے ہیں کہ اب دنیا کے نقشے سے ان ظالموں کا نام و نشان مٹ جائے گا اور ارضِ پاک سے لے کر قدس کی فضائوں تک صرف حق کا بول بالا ہوگا کیونکہ مظلوم کی ایک آہ نے ان کے تکبر کے قلعوں کو پیوندِ خاک کر دیا ہے۔


© Daily Urdu