menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Digital Fareb

25 0
16.09.2026

مصنوعی ذہانت (AI) کی موجودہ عالمی دوڑ بلا شبہ ایک نئی "ڈیجیٹل سرد جنگ" کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں روایتی سپر پاورز بارود کی بجائے الگورتھم کی بنیاد پر عالمی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اس تکنیکی انقلاب کی باگ ڈور امریکہ اور چین جیسے معاشی و ٹیکنالوجی کے جنات، گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی جیسی چند بڑی نجی کمپنیوں اور دنیا کے صف اول کے سائنسی ماہرین کے ہاتھوں میں ہے۔

یہ الگورتھم انسانوں کے لیے جہاں لاتعداد مواقع لائے ہیں وہیں سنگین خدشات بھی پیدا کر رہے ہیں۔ بیماریوں کی بروقت تشخیص اور نئی ادویات کی منٹوں میں تیاری صنعتی عمل کو تیز تر بنانا اور پیچیدہ ڈیٹا کا لمحوں میں تجزیہ ہر انسان کے لیے ذاتی علم اور سائنسی تحقیق کی رفتار میں بے پناہ اضافہ، روایتی ملازمتوں کے ختم ہونے اور شدید بے روزگاری کا اندیشہ گہرے پرفریب ڈیپ فیکس اور جعلی معلومات کے ذریعے سماجی انتشار انسانی زندگی کی ہر سرگرمی پر الگورتھم نگرانی مصنوعی ذہانت کا مستقبل محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا موڑ ہے آنے والے دنوں میں فتح اس کی نہیں ہوگی جس کے پاس سب سے زیادہ ہتھیار ہیں بلکہ اس کی ہوگی جس کے پاس مصنوعی ذہانت سب سے زیادہ طاقتور ہے اگر عالمی برادری نے اس دوڑ کو کسی ضابطے یا اخلاقی اصولوں کے تابع نہ کیا تو خود ساختہ ذہانت انسان کی اپنی بقا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے دور میں یہ خدشات اور احساسات عام ہیں کہ یہ انقلاب انسانی ذہن، نظریات اور مذہبی اقدار کو متاثر کر سکتا ہے ٹیکنالوجی کی بے پناہ طاقت،........

© Daily Urdu