Mobile Ki Screen Aur Barhti Hui Dooriyan
موبائل کی اسکرین اور بڑھتی ہوئ دوریاں
انسان نے شاید اپنی پوری تاریخ میں اتنی تیز رفتار ترقی کبھی نہیں دیکھی جتنی گزشتہ دو دہائیوں میں دیکھی ہے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک چھوٹا سا موبائل پوری دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لے آیا ہے علم، رابطہ، کاروبار، تعلیم اور سہولتیں پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہیں لیکن ہر ترقی کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اس ترقی کی قیمت اپنے رشتوں اپنی تہذیب اور اپنی اجتماعی زندگی کی صورت میں ادا کی ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آزادی دی مگر آہستہ آہستہ یہی آزادی بے لگام نمائش میں بدل گئی شہرت اور پیسے کی دوڑ نے انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بعض اوقات عزت، حیا وقار اور خاندانی اقدار بھی قربان ہوتی دکھائی دیتی ہیں ہر گزرتے دن کے ساتھ ایسی ویڈیوز، تصاویر اور مواد میں اضافہ ہو رہا ہے جن میں تہذیب سے زیادہ سنسنی اور کردار سے زیادہ نمائش کو اہمیت دی جاتی ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ برائی اب صرف برائی نہیں رہی بلکہ اسے ٹرینڈ فیشن اور کانٹینٹ کا نام دے دیا گیا ہے جو چیز کبھی شرمندگی سمجھی جاتی تھی آج بعض حلقوں میں کامیابی کی علامت بن چکی ہے یہ تبدیلی صرف بالغوں تک محدود نہیں رہی بلکہ نئی نسل بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں کم عمری میں ہی بچے........
