menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Vice Chancellors Aur Mehkma Sehat

43 0
08.09.2026

وائس چانسلرز اور محکمہ صحت

پنجاب کی پانچ میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی نشستیں خالی ہوئے دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک تعیناتی کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے۔ کیونکہ وزیر اعلٰی کے لئے ان تعیناتیوں سے زیادہ اہم معاملہ صوبوں کی تقسیم اور ان کی بیٹی کے کانووکیشن میں شرکت ہے۔ اگر سرکاری یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت ختم کرکے کوئی مربوط میرٹ پالیسی بنائی ہوتی تو یہ معاملہ اس طرح طول نہ پکڑتا کہ درجن بھر سنئر ڈاکٹر اور استاد مسلسل انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ جولائی میں سابقہ وائس چانسلرز کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی یہ معاملہ طے پا جاتا اور نئے وی سی آکر ضابطے کی کاروائی جاری رکھتے۔ جب سے میڈیکل گراونڈ پر سیاسی لیڈروں کی رہائی اور بیرون ملک جانے کی اجازت دی جانے لگی ہے تو ان میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور پرنسپل حضرات کی بھی سیاسی وابستگی کو جانچنا ضروری ہوگیا ہے۔ اسی جانچ پڑتال میں یہ سادہ سا معاملہ اتنا طول پکڑ گیا ہے کہ کئی سنئر پروفیسر پرنسپل یا وائس چانسلرز کی پوزیشن کے بارے میں سوچتے ہی کانوں کو ہاتھ لگانے لگتے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں میں لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل کی خالی ہونے والی پوزیشن کے حوالے سے کچھ سنئیر اور قابل پروفیسر حضرات سے بات ہوئی تو انھوں نے صاف الفاظ میں پرنسپل بننے کی خواہش سے انکار کردیا اور کہا کہ جہاں ہسپتالوں کا سارا نظام بغیر کسی منصوبہ بندی کے اللہ کے سہارے چل رہا ہو تو وہاں ہاتھ ڈال کر تو کام نہیں ہو سکتا بلکہ جائے نماز پر بیٹھ کر دعائیں ہو سکتی ہیں۔ یہاں ہسپتال میں ذرا سی صفائی کی کوتاہی پر سب سے پہلے پرنسپل کی قربانی ہوتی ہے تو کیا ضرورت ہے کہ ایسے سافٹ ٹارگٹ کی تختی گلے میں ڈالی جائے۔

بات........

© Daily Urdu