Super Power Ka Zawal
یہ بات تو دنیا میں آشکار ہو چکی ہے کہ بظاہر دنیا کی واحد سپر پاور عملی طور پر اسرائیل کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے اور اسرائیل امریکہ کی شہ پر جس بھی ملک میں چاہے گھس کر ناصرف دہشت گردی کرتا ہے بلکہ وہاں کے نظام کو بھی اپنی مٹھی میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔
ہم دیکھ چکے ہیں کہ پچھلے سال جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت بھی امریکہ نے منصفانہ ثالثی کے تقاضے پورے نہیں کئے تھے بلکہ اسرائیل کی مدد کو دوڑا آیا تھا اور پھر امریکی جہازوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا اور بعد میں امریکہ نے جنگ کو روکنے کے لئے اسرائیل اور ایران کو آمادہ کیا تھا اور جنگ بندی کروانے کا کریڈٹ بھی لیا تھا۔ وہی جنگ جسے امریکہ نے ختم کروایا تھا اور چند ماہ بعد ہی اپنے بحری بیڑے لے کر اسرائیل کے ایما پر ایران پر حملہ کرنے کے لئے پہنچ گیا۔
امریکہ اس سے پہلے بھی اسرائیل کو محفوظ بنانے کے نام پر شام، عراق اور لیبیا کو بھی جنگ کے ذریعے کمزور کرکے وہاں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر چکا ہے۔ پچھلے کچھ عرصہ سے اسرائیل نے ایران پر بھی انگلیاں اٹھانا شروع کردی تھیں اور امریکہ کو ایران کو کچلنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جس میں ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی اور دفاعی پابندیاں اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
پچھلے سال جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو اس کے بعد ایرانی ردعمل دیکھ کر اسرائیلی قیادت مسلسل خوف میں مبتلا تھی اور اسے اس چیز کا ادراک ہوگیا تھا کہ گریٹر اسرائیل کے پلان میں اگر کوئی ملک رکاوٹ بن سکتے ہیں تو وہ ایران اور پاکستان ہیں اسی لئے تو تجزیہ کار یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ایران کو کچلنے کے بعد اسرائیل کا اگلا نشانہ........
