menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mujhe Kya Bura Tha Marna

51 0
28.03.2026

مجھے کیا برا تھا مرنا

سمجھ میں نہیں آ رہا کہ قصہ شروع کہاں سے کریں؟ ہم قمر کو زیادہ نہیں جانتے تھے۔ جاننے کا دعویٰ تو خیر انور کے لئے بھی نہیں۔ انسان ساری عمر ساتھ رہنے والوں کو نہیں جان سکتا تو اجنبیوں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ ہر لمحہ ایک نئی حیرانی و تحیر کا سامنا رہتا۔ انسان نہ ہوا پیاز ہوگیا، ہر نیا واقعہ، ہر نیا حادثہ اک پرت اتار دیتا ہے۔ یہ بھی غنیمت کہ زندگی بہت طویل نہیں سو کچھ بھرم رہ بھی جاتے ہیں۔

بات کدھر سے کدھر نکل گئی، قصہ تھا قمر اور انور کا۔

چلیے انور سے شروع کرتے ہیں۔ انور میرے میاں کی کمپنی میں سیلز رپریسنٹیٹو (sales representative) تھے۔ پانچ بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹے اور گھر بھر کے لاڈلے دلارے انو۔ عقل واجبی، شکل مناسب، سانولا بلکہ قدرے دبتا رنگ۔ جسم کسرتی اور مزے کی بات کہ اس جسم پر زعم بھی بہت۔ انو میاں اپنے گمان میں سلمان خان تھے اب یہ الگ بات کہ اس کسرتی جسم میں بھیجہ کسی چڑیا جتنا۔ شارپنس اور اسمارٹنس کا دور دور گزر نہیں۔ اماں ابا حیات نہ تھے اس لئے ان پر سب کی ممتا چھلکتی تھی۔ بہنوں نے تو گویا انہیں ہاتھ کا چھالا ہی بنا لیا تھا۔ کئی سال کی سپلی کے بعد مرتے کھپتے بالآخر BSc سے پار لگے۔ ہزار ہا سفارشات پر میرے میاں کے دفتر میں ملازمت ملی۔ انور میاں آدمی چرب زبان تھے اور خوشامد کی اہمیت سے کما حقہ واقف بلکہ سچ تو یہ کہ اس فن میں ید طولی رکھتے تھے۔

بہنیں ان کے سہرے کے پھول کھلانے کی سر توڑ مہم میں جتی ہوئی تھیں پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوتا۔ ہمیں حیرانی تو تھی کہ لڑکیوں کی اس قدر نا قدری کے باوجود بھی انہیں کوئی لڑکی کیوں کر نہیں جڑتی؟ ایک دن انور میاں نے اس راز ہائے سربستہ سے پردہ اٹھایا کہ بڑی باجی چاہتی ہیں کہ لڑکی پڑھی لکھی اور برسرروزگار ہوتاکہ گھر کی گاڑی آسانی سے چلے۔ ہم بڑی باجی کی دور اندیشی اور بصیرت کے قائل ہو ہو گئے۔

ایک شام انو میاں لجائے لجائے مٹھائی سمیت وارد ہوئے اور اپنے رشتہ طے ہونے کی نوید سنائی۔ ہم نے مبارک باد دی اور خوش بھی ہوئے کہ چلو یہ بیل منڈھے تو چڑھی۔ پر جانے کیوں نوشے میاں کچھ بجھے بجھے سے تھے۔ ہم نے اپنے میاں، ناصر سے پوچھا تو انہوں نے راز کھولا کہ لڑکی یعنی قمر النساء، انور کی بڑی بہن کی کلاس فیلو اور دوست ہیں۔ انو سے عمر میں تین سال بڑی اور شکل وصورت بہت واجبی۔ مختصر قد و قامت کی منحنی سی خاتون۔ لائبریری سائنس میں ماسٹرز ہیں اور ان کے والد جامعہ کراچی میں پروفسر تھے۔ قمر چونکہ پوزیشن ہولڈر تھیں سو جامعہ کراچی کی مرکزی لائبریری میں آسانی سے نوکری مل گئی اور والد کے انتقال کے بعد وہی گھر قمر کے نام الاٹ ہوگیا ہے۔

لو بھئی بلی کے بھاگوں چھینکاں ٹوٹا، بہنیں سر پیر منہ گاڑی کئے اسٹبلیش (stablish) لڑکی ڈھونڈ رہی تھیں وہ تو مل گئی اب اور کیا چاہئے؟

وہ سب تو سہی ہے پر دل کا کیا کرے کوئی؟ انور میاں کو ہیما مالنی پسند ہے اور ان کو اپنے لئے ویسی ہی دلہن مقصود۔

ناصر نے صورت حال واضح کی۔

دل تو چاہا کہ کہوں، اپنی شکل دیکھی ہے؟

پر........

© Daily Urdu