Kitne Dukh Baqi Hain
1988 کا ذکر تھا کہ ایک مرتبہ مجھے چہرے پر کوئی عام سی تکلیف ہوئی اور اس سے چھیڑ چھاڑ کے نتیجے میں ایک تکلیف ہوئی جس کو سرجیکل زبان میں Facial cellulitis کہتے ہیں۔ فوراََ پریشان ہو کر میو اسپتال کی ایمرجنسی میں جانا ہوا جہاں جن صاحب نے گزرتے ہوئے دیکھا انہوں نے کچھ سخت الفاظ کہے جس کے معنی کچھ ایسے تھے کہ جو لوگ اپنی فکر زیادہ کرتے ہیں وہ بیمار زیادہ ہوتے ہیں۔ غیرضروری تلخ الفاظ تھے جنہیں کہنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ چند منٹوں کے بعد جن مقابلتاََ سینئیر اور سمجھدار ڈاکٹر صاحب نے میرا علاج کیا وہ بہت درد دل رکھنے اور خیال کرنے والے صاحب تھے۔ دوائیں بتائیں اور مجھے تسلی تشفی دے کر بھیجا۔ ویسے بھی میں فورتھ ائیر کا میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا جسے اب اپنی بھی طبی سمجھ بُوجھ تھی۔ وقت تو گزر گیا لیکن پہلے ڈاکٹر صاحب کا غیر پیشہ ورانہ اور بدتہذیب رویہ منہ میں کڑوا کسیلا ذائقہ چھوڑ گیا۔ اتنا ضرور ہے کہ جب خود ڈاکٹر بنے تو بہت ہمدرد اور احساس کرنے والا ڈاکٹر بننے کی کوشش کی۔
بہت سے سال گزر گئے اور ہم نے آئیووا کو گھر بنایا۔ ایک دن میں نے اپنے سارے ٹیسٹ خود کرنے کا سوچا۔ اس زمانے میں ہم اپنے ٹیسٹ خود آرڈر کر سکتے تھے۔ میں خود ہی لیب میں چلا گیا اور چیدہ چیدہ ٹیسٹ لکھے۔ اس وقت غالباََ اتوار کی صبح تھی اور میں واحد مریض تھا۔ مشین نے ٹیسٹوں کی رپورٹ نکال کر کہنے لگا کہ باقی رپورٹیں تو ٹھیک ہیں لیکن خون کی ایک رپورٹ میں بہت معمولی سا مسئلہ دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے رپورٹ دیکھی لیکن مجھے کوئی خاص پریشانی کی بات دکھائی نہیں دی۔ میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔
چند ھفتوں بعد دوبارہ اس رپورٹ کا خیال آیا اور دوبارہ بلڈ ٹیسٹ لکھا اور لیبارٹری میں دے کر آیا۔ بدقسمتی سے وہی رپورٹ معمولی سی بہتر تو........
