menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Insani Huqooq Ki Jang Ya Wasail Par Qabza Geeri?

40 0
15.03.2026

انسانی حقوق کی جنگ یا وسائل پر قبضہ گیری؟

اسرائیل دنیا کا وہ تخریب کار اور غیر ذمہ دار ملک جس کی گزشتہ ایک سال میں فوجی کارروائیاں متعدد محاذوں تک پھیلی رہیں۔ صرف بارہ ماہ میں اسرائیل نے مجموعی طور پر چھ ممالک اور تین آبی علاقوں میں تقریباً 10,600 حملے کیے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ فلسطین پر جہاں 8,332 حملے، جنگ بندی کے باوجود کارروائیوں کا تسلسل، تقریباً 20 لاکھ افراد کی بے دخلی اور 72 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسی عرصے میں لبنان میں 1,653،ایران میں 379، شام میں 207 اور یمن میں حوثی اہداف پر 48 حملے کیے ہیں، جبکہ قطر، تیونس، مالٹا اور یونان سے متعلق بحری یا فلوٹیلا پر حملے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے ان تمام حملوں کے پیچھے امریکہ کی پشت پناہی شامل رہی ہے جس کے اپنے جنگی جرائم کی فہرست کافی طویل ہے۔

حالیہ ایران پر حملہ بھی اسرائیل اور امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے تقریباً بیس ملکوں پر اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے سب سے پہلے آس پاس امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی جسے سیلف ڈیفینس کہا جائے گا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ایران پر پچھلے حملوں کے بعد ٹرمپ اور اسرائیلی انتظامیہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا ہے اور پھر اچانک 28 فروری ہفتے کی صبح ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے مشورہ لیے بغیر ایران پر دوبارہ حملے کر دیے۔ حملوں کا جواز ایران کے جوہری پروگرام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا جسے بقول وہ چھ ماہ قبل نیست و نابود کر چکے تھے۔

ایران کی ملا رجیم اور ان کی ہارڈ کور لیڈرشپ کی........

© Daily Urdu