menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rasputin

43 6
18.02.2026

روس کی برفانی ہواؤں میں جب سلطنتِ رومانوف کے زوال کی داستانیں لکھی جا رہی تھیں، اس وقت تاریخ کے اسٹیج پر ایک ایسا کردار نمودار ہوا جس نے مذہب، سیاست اور ہوس کے تانے بانے کچھ اس طرح بنے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے گریگوری راسپوٹین کی، جسے کوئی "شیطان کا ایجنٹ" کہتا ہے تو کوئی "خدا کا فرشتہ"۔ لیکن حقیقت ان دونوں کے درمیان کہیں اس اندھیرے میں چھپی ہے جہاں روحانیت اور گناہ کی سرحدیں آپس میں مل جاتی ہیں۔

سائبیریا کے ایک بنجر اور پسماندہ گاؤں سے نکلنے والا یہ ان پڑھ کسان کوئی عام انسان نہیں تھا۔ اس کی جوانی آوارہ گردی اور چوری چکاری میں گزری، لیکن پھر اچانک اس کے اندر ایک تبدیلی آئی۔ وہ مہینوں غائب رہتا اور جب واپس آتا تو اس کی آنکھوں میں ایک ایسی وحشیانہ چمک ہوتی جو دیکھنے والے کے خون کو منجمد کر دیتی۔ راسپوٹین نے اپنی اس گمنامی کے دور میں روس کے خفیہ اور ممنوعہ فرقے "خلیستی" سے ناطہ جوڑا۔ یہیں سے اس نے وہ علوم سیکھے جنہوں نے اسے ایک عام کسان سے "عظیم جادوگر" بنا دیا۔

خلیستی فرقے کا فلسفہ ہی نرالا تھا: "خدا کی رحمت اس وقت تک نازل نہیں ہوتی جب تک انسان گناہ کی دلدل میں نہ اترے۔ جتنا بڑا گناہ ہوگا، توبہ اتنی ہی شدید ہوگی اور خدا اتنا ہی قریب آئے گا"۔ راسپوٹین نے اسی فلسفے کو اپنی طاقت بنایا اور اسے "روحانی مراقبوں" اور "ٹیلی پیتھی" کے ساتھ ملا کر ایک ایسا ہتھیار تیار کیا جس کا شکار خاص طور پر خواتین بنیں۔

راسپوٹین کی سب سے بڑی طاقت اس کا "ذہنی تسلط" (Hypnotic Power) تھا۔ اس کی آنکھیں نیلی اور گہری تھیں، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ سامنے والے کے شعور کو مفلوج کر دیتی تھیں۔ وہ جب کسی عورت سے بات کرتا، تو اس کی آواز میں ایک ایسی گونج اور تھرتھراہٹ ہوتی جو براہِ راست اعصاب پر اثر کرتی۔ اس نے "ٹیلی پیتھی" کے ذریعے دوسروں کے خیالات پڑھنے اور ان کے درد کو محسوس کرنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ جب کوئی پریشان حال خاتون اس کے پاس آتی، تو وہ اسے یہ احساس دلاتا کہ وہ اس کے دل کے وہ راز بھی جانتا ہے جو اس نے کبھی خود سے بھی نہیں کہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جہاں سے اس کا "شکار" شروع ہوتا تھا۔

راسپوٹین کا طریقہ واردات انتہائی شاطرانہ تھا۔ وہ روس کی اعلیٰ طبقے کی خواتین، شہزادیوں اور........

© Daily Urdu