menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Javed Akhtar Tumhara Shukriya

17 1
15.01.2026

عصرِ حاضر میں جاوید اختر جیسے لادین مفکرین کی جانب سے اٹھائے گئے شکوک و شبہات نے اگرچہ مسلم معاشرے میں فکری انتشار پیدا کیا، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا ہے۔ جاوید اختر کا یہ "انکار" دراصل ایک ایسا عمل انگیز ثابت ہوا ہے، جس نے ایمان کو محض روایتی وراثت سے نکال کر ایک جیتی جاگتی "تحقیقی حقیقت" بنانے کی راہ دکھائی ہے۔ اسلام ہمیشہ ہر فکری کربلا کے بعد ایک نئی زندگی پاتا ہے اور ملحد کے سامنے علمی و استدلالی طور پر ڈٹ جانا ہی دورِ حاضر کی "حسینیت" ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا خواہ کافروں کو برا ہی لگے۔ (سورۃ الصف: 8)

ایمان کی عمارت کی اساس "لا" یعنی انکار پر ہے۔ یہ "لا" دراصل وہ جراحی ہے جو انسانی دل سے جھوٹے خداؤں اور انا کے بتوں کو کاٹ پھینکتی ہے۔ یہاں دو طرح کے انکار سامنے آتے ہیں، ایک مومنانہ "لا" جو انبیاء کا طریقہ ہے جہاں باطل کا انکار اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ حق کا نقش واضح ہو سکے۔ دوسرا کافرانہ "لا" جو جاوید اختر جیسے منکرین کا وتیرہ ہے، جو کسی سچائی کی تلاش کے لیے نہیں بلکہ اپنی ضد، مادی مفاد اور انا کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ میں انکار اور توبہ کا پہلا تجربہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوا۔ اللہ........

© Daily Urdu