Hijrat Ke Khwab Aur Haqiqat
ہجرت کے خواب اور حقیقت
سنو، دیکھو! امریکن ایمبیسی سے میڈیکل کی تاریخ آگئی ہے، ہمارا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ انشاللہ، ہم جلد ہی امریکہ میں ہوں گے۔ تارہ کے منہ سے خوشی کے مارے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ لیکن جواب میں جمال کی خاموشی اس کے لئے سوالیہ نشان تھی
تارہ سب کچھ تو ہے ہمارے پاس، گھر، گاڑی، نوکر چاکر، اتنے خوبصورت رشتے اور تم اپنی زمین، اپنی شناخت سب چھوڑ کر ایک اجنبی زمین پر نئے سرے سے قدم جمانا چاہتی ہو۔ تارہ وہاں زندگی چلتی نہیں، دوڑتی ہے اور مجھے نہیں لگتا، کہ اب میں اتنا تیزبھاگ سکتا ہوں؟ اس دوڑ میں کہیں ہم کھو گئے تو؟ جمال، تم زندگی میں آگے بڑھنا ہی نہیں چاہتے، تم کنوئیں کے مینڈک ہی رہنا آج کل ہر دوسرا شخص ملک سے باہر جانا چاہتا ہے اور اب جب زندگی ہمیں ایسا ایک شاندارموقع دے رہی ہے، تو تم ناشکری پر اتر آئے ہو۔ تمہیں اپنے بچوں کا روشن مستقبل بھی نظر نہیں آ رہا۔ میں سب سمجھتا ہوں، تارہ لیکن اپنا وطن، فیملی، دوست، رشتہ دار، اپنا گھرچھوڑنے، پردیس کی تنہائی اور مشکلات کا سوچتے ہی کئی اندیشے اور وہم میرا دامن گھیر لیتے ہیں۔ بچے یہاں بھی تواعلی تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ میری اتنی اچھی جاب ہے۔ اپنا لائف سٹائل دیکھو، تمہارے لئے گھریلو ملازموں کی کمی نہیں، ایک بار پھر سوچ لو۔ میں فیصلہ کر چکی ہوں اور پھر بھائی اور ان کی فیملی تین سالوں سے وہا ں ہیں۔ آپ کو کس بات کی فکر ہے؟
آج........
