Barg e Faiz
اسلام آباد شہر سے اندازاً کوئی پچیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر خوبصورت پہاڑوں کے درمیان ایک انتہائی منظم رہائشی کالونی ہے، یہاں تک پہنچنے کا راستہ بارہ کہو سے مڑ کرایک مصروف سڑک کے ذریعے طے پاتا ہے۔ اظہر چوہدری ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں منتقل ہوگیا۔ دو تین بار اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا، اس رہائشی کالونی میں سو کے قریب خاندان قیام پذیر ہیں۔
میں پہلی بار جب گیا تو ایسے لگا کہ ایک انجان سے علاقے میں آ چکا ہوں، یہاں کا ماحول کافی آدم بیزار نظر آتا تھا۔ رہنے والے بھی ایسے ہی لگے کہ وہ شور، گاڑیوں کی بے ہنگم ٹریفک اور انسانوں کے سیلاب سے بچ کر، ایک محفوظ ٹھکانے پر پہنچ چکے ہیں۔ ویسے تو میں اور اظہر چوہدری لائل پور، یعنی فیصل آباد کے پیدائشی باشندے ہیں۔ البتہ اب اس مٹی سے واسطہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ والدین کی قبریں وہ غمگین جگہیں ہیں جن کی بدولت آج بھی مجھے لائل پور سے عشق ہے۔
آج سے دوسال قبل اظہر چوہدری کا فون آیا کہ خیبر پختونخواہ کا ایک علاقہ ہے جس کا نام بونیر ہے۔ کیا وہاں کسی قسم کی کوئی واقفیت ہے؟ ذہن کے آخری حصے میں بھی بونیر سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ابھر سکا۔ مگر اجنبی سے سوال کا مقصد پوچھنا ضروری لگا۔ جواب سن کر ایک جہان حیرت کھل گیا۔ بتانے لگا کہ اس کی اہلیہ نے اسلام آباد سے بونیر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ وہاں ایک قدرتی آفت سے متاثرہ لوگ مصیبت میں ہیں۔ کہنے لگا کہ اہلیہ نے عام لوگوں کے لیے راشن سے لے کر کپڑے اور ہر طرح کی ضروریات کا سامان اکٹھا کررکھا ہے۔ اس میں کسی قسم کی حکومت کی معاونت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ ناہید صاحبہ نے یہ تمام اہتمام اپنی گرہِ خاص اور نزدیکی دوستوں کے تعاون سے برپا کیا ہے۔
جن میں سے اکثریت اسی ویران آبادی میں مقیم ہے۔ جب بیگم صاحبہ سے خود بات کی اور انھوں نے امدادی سامان کی تفصیل بتائی، توششدر رہ گیا۔ اس کے بعد کئی منٹ خاموشی کے ساتھ کرسی پر بیٹھا رہا۔ سازو سامان میری توقع سے بھی کافی بڑھ کر تھا۔ خیر کیونکہ بونیر میں نے کبھی کام نہیں کیا تھا لہٰذا اظہر اور ان کی اہلیہ کو کچھ بھی نہ بتا........
