menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

One Constitution Avenue Ka Qaziya

23 0
04.05.2026

"ون کانسٹی ٹیوشن ایوینیو" کا قضیّہ

مئی کے وسط میں چینی صدر سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ایران کے حوالے سے حتمی فیصلے لینے کو مجبور ہے۔ دائمی امن کی تمنا ہوئی تو دس سے پندرہ مئی کے درمیان پاکستان کے دارلحکومت میں کسی بھی دن امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا ایک اور دور ہوسکتا ہے۔ اسلام آباد اگرچہ ان دنوں امن مذاکرات کے مرکز کی حیثیت میں عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے بجائے ایک باعثِ ندامت سکینڈل کی لپیٹ میں ہے۔

وہ ادارے جنہیں ریاست اور حکومتِ پاکستان کی قوت واختیار کا سرچشمہ کہا جاسکتا ہے اسلام آباد کی "شاہراہِ دستور" پر واقع ہیں۔ مارگلہ پہاڑیوں کے آغاز والے مقام سے دائیں ہاتھ مڑیں تو ریاست کے چند دائمی عمارتوں کے دفاتر کے بعد ایوانِ صدر اور بعدازاں پارلیمان کی عمارت آپ کے بائیں ہاتھ نظر آتی ہے۔ ان کے بعد ہے سپریم کورٹ جس کی عمارت "اتفاقاََ" پارلیمان سے بلند تر نظر آتی ہے۔ آئین کے مطابق "چیف ایگزیکٹو" ٹھہرائے وزیر اعظم کے دفتر کی عمارت باقی دفاتر کی ہیبت وجلال میں دبی ہوئی ہے۔ ماہرین تعمیرات نے گویا "شاہراہِ دستور" پر قائم عمارتوں کے نقشے تیار کرتے ہوئے"تحریری آئین" کے بجائے حقیقت سے رجوع کیا اور ہر ادارے کی حقیقی قوت واختیار اس کی تعمیر کی صورت اجاگرکردی۔

ان عمارتوں سے گزر کر راولپنڈی یا مری کی جانب بڑھتے ہوئے اُفق پر نگاہ ڈالیں تو سڑک کے اختتام پر پہاڑی کی صورت بلند ہوئے ایک مقام پر آسمان کو چھوتے دوستون نظر آتے ہیں۔ ان کے درمیان ایک پرشکوہ پل بھی تعمیر ہوا ہے۔ آسمان کی رفعتوں سے "شاہراہِ دستور" پر نگاہ رکھنے والی اس عمارت کا نام "ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو" ہے۔........

© Daily Urdu