Nisar Khoro Ki Tehreek e Iltiwa Ya Tehreek e Pesh Bandi?
نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ "پیش بندی"؟
تاریخ خود کو بسااوقات حیران کن انداز میں دہراتی ہے۔ ریگولر اور سوشل میڈیا کے پھیرے لگاتے ہوئے اچانک یہ دریافت ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے جو لاڑکانہ سے صوبائی اسمبلی کے رکن بھی ہیں ایک تحریک التوا پیش کی ہے۔ پارلیمانی روایات سے عام پاکستانی تو کیا سوشل میڈیا کی بدولت مقبول ہوئے ہمارے بے شمار "ذہن ساز" صحافی بھی آشنا نہیں۔ حقیقی معنوں میں پارلیمانی نظام جمہوری نظام کی خود ساختہ چمپئن ہوئی سیاسی جماعتوں کے دورِ اقتدار میں بھی حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوتا نظر نہیں آیا تھا۔
پارلیمانی نظام اور اس کی روایات بیان کرنے کو یہ کالم لکھ نہیں رہا۔ یاد فقط یہ دلانا ہے کہ حکومتی اراکین اسمبلی تحریک التواء پیش نہیں کیا کرتے۔ اس تحریک کا مقصد حکومتی ایجنڈے کو معطل یا التواء میں ڈال کر اہم عوامی مسائل کو زیر بحث لانا ہوتا ہے۔ چسکہ دار کہانیوں کے متلاشی افراد کے لئے بتائے دیتا ہوں کہ 1970ء کی دہائی میں جب ملک غلام مصطفیٰ کھر شیر پنجاب کی شہرت کے ساتھ پنجاب کے طاقتور ترین وزیر اعلیٰ تھے تو ان دنوں پیپلز پارٹی کی حمایت سے خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر بٹھائی سیدہ عابدہ حسین نے جواں سال اور انقلابی خیالات کی حامل ہونے کی وجہ سے کسی عوامی مسئلے پر ایک تحریک التواء پیش کردی تھی۔ جاگیردارانہ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کھر صاحب نے انہیں اپنے چیمبر میں بلواکر ایک سرزنشی لیکچر دیا۔ عابدہ بی بی اس کے بعد بتدریج اسمبلی کارروائی سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے بالآخر بھٹو مخالف قوتوں کے کیمپ کا حصہ بن گئیں۔
چسکہ فروشی کے بعد بڑھتا ہوں اصل موضوع کی طرف۔ نثار کھوڑو کی پیش کردہ تحریک التواء کا مقصد........
