menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Maghrabi Bangal Mein Qissa e Pareena Bani Communist Party

36 0
01.07.2026

مغربی بنگال میں قصّہ پارینہ بنی کمیونسٹ پارٹی

کلکتہ کا ذکر جاری رکھتے ہوئے یاد آیا کہ 13نومبر1984ء کی صبح اس شہر کی پرنس سپ سٹریٹ میں واقع ایک ہوٹل میں اپنے بستر سے اٹھا تو خیال آیا کہ بطور پاکستانی مجھے مقامی پولیس کے دفتر میں اپنے قیام کا اندراج درکار ہے۔ ناشتے کے بعد تیار ہوکر نیچے آیا تو کائونٹر پر کھڑے شخص سے قریبی تھانے کا پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ہوٹل سے باہر نکل کر دائیں ہاتھ مڑکر گلی کی نکڑ تک پہنچنے کے بعد بائیں ہاتھ ہوجائوتو تھوڑی دیر چلنے کے بعد مجھے لال بازار تھانے کی عمارت نظر آجائے گی۔ اس کے بتانے سے یاد آیا کہ ہلواڑہ ریلوے اسٹیشن سے ہوٹل آتے ہوئے میں اس عمارت کے پاس سے گزرا تھا۔

تھانے پہنچا تو وہاں تیر کے نشان کے ساتھ انگریزی زبان میں غیر ملکیوں کا اندرج کرنے والے کمرے کا راستہ دکھایا گیا تھا۔ دو کمرے تھے جن میں تین پولیس والے سادہ کپڑوں میں میزوں پر بیٹھے تھے۔ میں ایک کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے برصغیر کے علاوہ کسی اور ملک کا باشندہ سمجھتے ہوئے انگریزی میں میرے ملک کا پوچھا۔ میں نے تھیلے سے پاکستانی پاسپورٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اسے دیکھ کر وہ شک سے نہیں بلکہ تجسس سے چونکا۔ اپنے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میری تفصیلات ایک رجسٹر میں درج کرنا شروع ہوگیا۔ تفصیلات کو رجسٹر میں درج کرلینے کے بعد وہ بائیں ہاتھ موجود ایک اور کمرے میں رجسٹر اٹھاکر چلا گیا۔ مجھے شبہ ہوا کہ وہ اپنے افسر سے میرے اندراج کے کاغذ پر دستخط کروانے گیا ہے۔ وہاں داخل ہونے کے چند ہی لمحوں بعد مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے اندر بلایا تو میں ذہنی طورپر تفتیش کے لئے تیار ہوگیا۔

غالباََ ڈی ایس پی رینک کا ایک سمارٹ افسر تھا۔ اپنے ہاتھ میں رکھے پاسپورٹ کو دیکھتے ہوئے اس نے میری جائے ولادت لاہور کا نام لیا اور اس امر پر حیرانی کا اظہار کیا کہ پاکستان کے پنجاب میں پیدا ہونے کے باوجود میرا کلکتہ سے ایسا کیا رشتہ ہے کہ میں اس شہر آیا ہوں۔ میں نے چرب زبان دیانتداری سے اسے بتایا کہ بچپن سے بنگال کے جادو اور کالی ماتا کا ذکر سنا ہے۔ کالج میں ٹیگور کی تحریریں پڑھیں اور بعدازاں ستیہ جیت رے کی فلمیں........

© Daily Urdu