Jamat e Islami Ka Populist Siasat Ka Andaz
جماعت اسلامی کا "پاپولسٹ سیاست" کا انداز
جماعت اسلامی کے خلاف میرے دل میں جوانی کے آغاز ہی سے جو تعصبات جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ان کے اعتراف کے بعد حیرت کا اظہار کیا تھا کہ تحریک انصاف کے اسلام آباد پر دھاوے کو ہر صورت روکنے کو ڈٹی حکومت اس جماعت کے پٹرولیم لیوی کے خلاف دیے دھرنوں کی راہ میں حائل کیوں نہیں ہورہی۔ اس کے دیے دھرنوں کا بلکہ ٹھنڈے ذہن سے جائزہ لیا گیا۔ مسلم لیگ (نون) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کی قیادت میں سینئر وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی نے جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات بھی شروع کردیے۔
جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ مذکورہ مذاکرات کے دوران اس کے رہ نماؤں نے ٹھوس اعدادوشمار کی معاونت سے حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر عائد لیوی کے خاتمے کی راہ دکھائی۔ جو راہ بقول جماعت حکومت کو دکھائی گئی وہ ہم عامیوں کے سامنے نہیں آئی۔ اس کی تفصیلات پبلک ہونے کے باوجود کم ازکم مجھ جیسے علم معاشیات کی مبادیات سے لاعلم افراد ان پر تبصرہ آرائی کے قابل نہیں تھے۔
سادہ بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ حکومت مذاکرات کے دوران جماعت اسلامی کوسمجھاتی رہی کہ پٹرولیم مصنوعات پر لیوی عائد کرنے کا تقاضا آئی ایم ایف نے کیا تھا۔ اس پر عمل درآمد سے انکار پاکستان کی معیشت کو ایک بار پھر دیوالیہ کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ جماعت اس جواز سے مطمئن نہ ہوئی اور اس کے قائد حافظ نعیم الرحمن صاحب کی قیادت میں کارکنوں کا قافلہ ٹرین مارچ کی صورت کراچی سے ملتان پہنچ گیا۔ ملتان کے بعد ارادہ بذریعہ سڑک اسلام آباد آنے کا تھا۔
پیر کے روز مگر وزیر اعظم شہباز شریف صاحب نے بذریعہ ٹیلی فون حافظ صاحب سے براہ راست رابطہ کیا۔........
