Beroon e Mulk Taleem Yafta Hamare Naujawano Ke Rozgar Ke Masail
بیرونِ ملک تعلیم یافتہ ہمارے نوجوانوں کے روزگار کے مسائل
ریگولر اور سوشل میڈیا میں ہمارے ہاں گزشتہ کئی برسوں سے ہذیانی انداز میں جو موضوعات زیر بحث ہیں ان کی بوچھاڑ سے متاثر ہوکر مجھ جیسے رپورٹنگ سے ریٹائر ہوکر کالم نگار ہوئے قلم گھسیٹ اپنی روزی کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لکھتا ہوں اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے بھول نہیں جاتا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے بینائی کے تحفظ کے لئے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ دیکھنے کیلئے محدود وقت مختص کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اکثر حکم عدولی ہوجاتی ہے۔ اس کی بابت شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ لکھے ہوئے کالموں کے نیچے اکثر ایسے نوجوانوں کے جواب آتے ہیں جنہیں فالو کرنے والوں کی تعداد اوسطاََ 300سے زیادہ نہیں ہوتی۔ مجھ بڈھے کو ٹائوٹ جیسے القاب سے نوازنے کے بعد صحافت کی جان چھوڑنے کا تقاضہ ہوتا ہے۔ ابتدائی ایام میں ان نوجوانوں کے مشورے کو سنجیدگی سے لیا۔ گزشتہ دو ہفتوں سے مگر ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بدولت چند حقائق دریافت ہوئے جن پر غور کیا تو ذہن اپنے بارے میں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے خوف سے مائوف ہوگیا۔
رواں صدی کا آغاز ہوتے ہی پرانی وضع کی صحافت اپنی وقعت پاکستان ہی نہیں دنیا بھرمیں کھونا شروع ہوگئی تھی۔ بہت کم ادارے ٹیکنالوجی کی وجہ سے اخباری صنعت پر نازل ہوئے معاشی بحران کے مقابلے کیلئے خود کو تیار کرسکے۔ نیویارک ٹائمز جیسے اداروں........
