menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Punjab Mein Ziadti Ke Hazaron Muqadmaat, Lekin Anjam Kya?

25 0
21.10.2026

پنجاب میں زیادتی کے ہزاروں مقدمات، لیکن انجام کیا؟

پاکستان میں زیادتی کے واقعات پر بحث عموماً ملزم کی گرفتاری اور پولیس کی کارروائی تک محدود رہتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟ متاثرہ شخص کو انصاف ملا یا مقدمہ تفتیش، شواہد اور عدالتی کارروائی کی بھول بھلیوں میں گم ہوگیا؟ اگر ملزم گرفتار ہوا تو کیا جرم ثابت کرنے کے لیے درکار شواہد بھی جمع کیے گئے؟ اور اگر عدالت سے سزا نہ ہوسکی تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟

تحقیقی صحافی ریاض الحق کی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ "پاکستان میں زیادتی کے واقعات کے پیچھے موجود اعداد و شمار" انہی سوالات کو سامنے لاتی ہے۔ وزارتِ قانون و انصاف کے ریکارڈ پر مبنی اس تحقیق کے مطابق، 2021 سے 2026 کے وسط تک ملک بھر میں زیادتی سے متعلق پانچ مختلف اقسام کے جرائم کے تحت 47 ہزار 452 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے 89.7 فیصد کا تعلق پنجاب سے تھا۔

یہ اعداد و شمار صرف جرائم کی سنگینی نہیں بتاتے، بلکہ انصاف کے نظام کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ قانون سازی سے لے کر ملزمان کی گرفتاری تک کارروائیاں اپنی جگہ مگر مقدمے کے حتمی نتیجے کو دیکھے بغیر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ریاست کہاں تک کامیاب ہوئی۔

رپورٹ کا ایک اہم انکشاف پنجاب میں اجتماعی زیادتی کے مقدمات کی غیر معمولی تعداد ہے۔ زیرِ جائزہ مدت میں صوبے میں اجتماعی زیادتی کے 29 ہزار 555 مقدمات درج ہوئے، جبکہ ایک فرد کی جانب سے زیادتی کے مقدمات کی تعداد 4 ہزار 494 رہی۔ یوں اجتماعی زیادتی کے مقدمات کی تعداد دوسرے زمرے کے مقابلے میں تقریباً 6.6 گنا زیادہ تھی۔

قومی سطح پر درج اجتماعی زیادتی کے مقدمات میں پنجاب کا حصہ 99.2 فیصد بتایا گیا ہے۔ یہ تناسب کئی بنیادی سوالات پیدا کرتا ہے۔ پنجاب میں اجتماعی زیادتی کے مقدمات اتنی بڑی تعداد میں کیوں سامنے آرہے ہیں؟ کیا ان جرائم کی وجوہات اور محرکات کا جامع تجزیہ کیا گیا ہے؟ اور کیا متعلقہ اداروں کی حکمتِ عملی ان رجحانات کو مدنظر رکھ کر........

© Daily Urdu