Agli Laiba Ko Kaun Bachaye Ga?
اگلی لائبہ کو کون بچائے گا؟
"میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا، ورنہ وہ مر جائیں گے"۔ یہ جملہ ایک ایسی بیٹی کی بے بسی کا اظہار ہے، جو مبینہ طور پر اپنے خواب بکھرنے اور والد کے ٹوٹ جانے کے خوف کے درمیان پھنس گئی تھی۔ یہ الفاظ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی 24 سالہ گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کے ہیں، جن کے بارے میں ان کے بہنوئی زید بن افضال نے بتایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر خودکشی سے پہلے انہیں فون کرکے یہ بات کہی تھی۔ اسلام آباد پولیس کو جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی لائبہ کی لاش ملی۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی لائبہ نے بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق یونیورسٹی نے انہیں اسکالرشپ پر سعودی عرب بھیجنے کی پیشکش کی تھی، لیکن اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے کا خواب دکھانے والے ایک مبینہ ویزا کنسلٹنٹ کے ساتھ رابطے نے ان کی زندگی کو ایک المناک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ اہلِ خانہ کے بیان کے مطابق اس شخص نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے انتظامات کے لیے 72 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔ یہ تفصیلات زید بن افضال کے بیان پر مبنی ہیں اور ان الزامات کی مکمل حقیقت کا تعین تحقیقات سے ہونا چاہیے۔
لائبہ اعجاز کی موت کا دکھ اپنی جگہ،........
