Riyasat Ya Jageer?
فروری 1986ء کی ایک گرم دوپہر تھی۔ فلپائن کے دارالحکومت منیلا کی سڑکیں انسانوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ہزاروں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے لیے صدارتی محل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محل کے اندر فرڈینینڈ مارکوس موجود تھا۔ وہی مارکوس جو بیس برس تک ملک کا طاقتور ترین شخص رہا، جس کے ایک اشارے پر قوانین بدل جاتے تھے، جس کے خاندان کو غیر معمولی مراعات حاصل تھیں اور جس کے گرد اقتدار کا ایسا حصار کھڑا ہو چکا تھا کہ اسے لگتا تھا ریاست اور اس کا خاندان ایک ہی چیز ہیں۔ مگر اس دن تاریخ نے رخ بدل لیا۔
فوج کے کئی افسر عوام کے ساتھ جا ملے۔ محل کے دروازے بند ہونے لگے۔ رات ہوتے ہوتے خبر پھیل گئی کہ مارکوس خاندان ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چند گھنٹوں بعد ہیلی کاپٹر صدارتی محل کی چھت سے اڑا اور فلپائن کا سب سے طاقتور خاندان جلاوطنی کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب عوام محل کے اندر داخل ہوئے تو انہیں سونے کے برتن، قیمتی تحائف، شاہانہ کمروں کی قطاریں اور ایسی آسائشیں ملیں جن کا تصور بھی ایک عام شہری نہیں کر سکتا تھا۔ دنیا حیران رہ گئی کہ جس ملک کے لاکھوں لوگ غربت میں زندگی گزار رہے تھے، وہاں اقتدار کے ایوانوں میں کس قدر شاہانہ زندگی بسر کی جا رہی تھی۔
تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ حکمران مراعات لیتے ہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکمران طبقہ یہ سمجھنے لگے کہ ریاست اس کی ملکیت ہے اور قومی خزانہ اس کا ذاتی اکاؤنٹ۔ مجھے یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ پاکستان میں ان دنوں عوامی نمائندوں کی مراعات ایک بار پھر موضوعِ بحث ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں سابق پارلیمنٹیرینز، ان کی بیگمات اور بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کی منظوری کی خبر آئی۔
دوسری طرف خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت نے منتخب نمائندوں کے لیے مزید سہولتوں، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام، ٹول ٹیکس سے استثنا اور دیگر مراعات کی منظورہ دی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، بجلی کے بل متوسط طبقے کی کمر توڑ رہے ہیں اور نوجوان روزگار کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ منتخب نمائندوں کو سہولتیں کیوں دی جائیں۔ دنیا کی ہر جمہوریت اپنے قانون سازوں کو تنخواہ، دفتر اور ضروری انتظامی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔
اصل........
