menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Imran Khan: Besakhiyon Se Tanhai Tak (2)

24 0
previous day

عمران خان: بیساکھیوں سے تنہائی تک (2)

2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تو عمران خان نے اپنی سیاست کا رخ حکومت کو دباؤ میں لانے کی طرف موڑ دیا۔ 2014ء میں انہوں نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا اور پھر 126 دن تک دھرنا جاری رکھا۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی انقلاب مارچ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ ایک طرف تحریک انصاف کا آزادی مارچ تھا اور دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ۔ دونوں کا مطالبہ نواز شریف حکومت کا خاتمہ تھا۔ دارالحکومت کئی ماہ تک سیاسی کشمکش کی گرفت میں رہا، کاروبار متاثر ہوئے، پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج جاری رہا اور ملک میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوگئی۔ ع

مران خان روزانہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کارکنوں کو یقین دلاتے کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی۔ اسی دوران ان کا جملہ "ایمپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے" پاکستانی سیاست کی تاریخ میں محفوظ ہوگیا۔ دھرنے کے دوران اس جملے کی تکرار نے یہ بحث ضرور چھیڑ دی کہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی میں پارلیمانی جدوجہد کے ساتھ غیر منتخب قوتوں سے بھی توقعات وابستہ تھیں۔ بہرحال اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ہونے والے اتنے طویل دھرنے کے باوجود "ایمپائر" کی انگلی نا اٹھی۔

اس دھرنے کے حوالے سے لندن میں ہونے والی ملاقاتوں کا معاملہ بھی اہم ہے۔ میرے والد کے دوست، سابق رکن قومی اسمبلی ارشد جاوید گھرکی نے مجھے دھرنے کے دنوں میں بتایا تھا کہ اس احتجاج کی منصوبہ بندی لندن میں ہوئی تھی اور عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی ملاقاتوں میں حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ میرے لیے ایک اطلاع تھی، لیکن بعد میں اس موضوع پر سامنے آنے والی خبروں اور بیانات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ جون 2014ء میں لندن میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران کی ملاقاتوں کی خبریں شائع ہوئیں۔ پھر اکتوبر 2018ء میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈاپور کا ایک بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی لندن میں ملے تھے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اس بیان کو اس وقت متعدد ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد خرم نواز گنڈاپور نے وضاحت کی کہ عمران خان ان ملاقاتوں میں شریک نہیں تھے، جبکہ عمران خان بھی لندن میں دھرنے کی منصوبہ بندی........

© Daily Urdu