Bharti Jangi Junoon
جنوبی ایشیا ایک بار پھر ایسے بیانیاتی تصادم کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں الفاظ محض سفارتی اظہار نہیں رہتے بلکہ وہ جغرافیائی کشیدگی، عسکری نفسیات اور تزویراتی عزائم کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں۔ بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز بیان اور اس کے جواب میں پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا دوٹوک اور غیر مبہم ردعمل دراصل خطے میں جاری اس فکری کشمکش کی علامت ہے جس میں ایک طرف طاقت کے نشے میں مبتلا بالادستانہ ذہنیت کارفرما ہے اور دوسری جانب قومی خودمختاری، تزویراتی توازن اور علاقائی امن کا سوال موجود ہے۔ اس پورے معاملے کو محض ایک روایتی لفظی جنگ سمجھنا حقیقت سے صرفِ نظر کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس نوع کے بیانات ریاستوں کی اجتماعی نفسیات، عسکری حکمتِ عملی اور مستقبل کے سیاسی رویّوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں، محض ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ نہیں بلکہ اس سوچ کا مظہر ہے جو برصغیر کی تقسیم کو آج بھی ذہنی طور پر قبول نہیں کر سکی۔ یہ وہی نفسیاتی بحران ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جنوبی ایشیا کو متعدد جنگوں، سرحدی تنازعات اور خطرناک عسکری محاذ آرائیوں کی طرف دھکیلا۔ جدید دنیا میں کسی خودمختار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست کے بارے میں اس نوع کی زبان استعمال کرنا دراصل سفارتی اخلاقیات، بین الاقوامی قوانین اور اسٹریٹجک سنجیدگی سے انحراف کے مترادف ہے۔ ایسی گفتگو طاقت کے........
