menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Paris Mein Wajoodi Aur Ghair Wajoodi Mulaqat

28 0
11.10.2026

پیرس میں وجودی اور غیر وجودی ملاقات

چار ستمبر کی صبح گول محرابوں والی راہداری سے ٹور بس گزری تو چند ساعتوں بعد ہی دائیں طرف وسیع میدان میں ایستادہ گلاس پیرامڈ میرے سامنے تھا جسے چینی نژاد امریکی معمار آئی ایم پی نے 1989 میں ڈیزائین کیا۔ اب مجھے یقین ہو چلا تھا کہ میں معصوم متجسس مسکراہٹ والے 523 سالہ پرانے اس شاہکار کے نزدیک آ گیا ہوں جسے دیکھنے کے لیے میں آٹھ ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے یہاں پہنچا ہوں۔

دو سال پہلے کی بات ہے جب میرا ہوسٹن سے لندن اور پھر لندن سے پیرس کا سفر ملتوی ہوا تھا۔ میرے بیٹے علی نے یہ طے کر لیا تھا کہ میں کچھ دن اس شہر میں بھی گزاروں جہاں میری دلچسپی کی بہت سی چیزیں ہیں۔ مگر ایک صبح جب میں باتھ روم گیا تو اچانک یوں لگا کہ میری آنکھ اور باتھ ٹب کی سفید کناری کے درمیان فاصلہ مٹ گیا اور انتہائی سرعت سے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں میرا ماتھا ایک جھٹکے سے اس کناری سے جا ٹکرایا تھا۔ پھر میں کتنی دیر وہاں پڑا رہا مجھے معلوم نہ تھا۔ عروس جو پہلے سے انگلینڈ پہنچی ہوئی تھیں، واپس آگئیں اور میرے جانے کا پروگرام کینسل ہوگیا۔ اس بار میں نے بچوں سے کہہ دیا تھا کہ صرف آپ لوگوں سے ملنے آؤں گا، مگر لندن پہنچا تو وہاں سب بچوں نے اصرار کیا کہ موقع نہ گنوائیں، صرف ڈیڑھ گھنٹے کی فلائٹ ہے، پیرس دیکھ ہی لیں۔ آخر میں نے بچوں کی اور عروس نے میری بات مان ہی لی۔ تین دن بعد ہم پیرس میں تھے۔

ہمارا ہوٹل ایفل ٹاور کی جنوبی سمت میں ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھا۔ ائیرپورٹ سے ٹیکسی نے ہمیں ایفل ٹاور کے عین سامنے ہی اُتارا تھا اور اب دوسرے دن ہم مونالیزا سے چند گز کے فاصلے پر تھے۔ یہ میوزیم ڈی لوورے ہے جسے بارھویں صدی میں فلپ دوئم نے پیرس شہر کے حفاظتی قلعے کے طور پر تعمیر کروایا تھا اور جو بعدازاں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

بچوں نے کہا تھا کہ میوزیم کا ٹکٹ آن لائن لیجیے گا، آسانی رہے گی، چنانچہ میں ایک سایہ دار جگہ بیٹھ کر آن لائن داخلہ ٹکٹ سرچ کر رہا تھا۔ دو ٹکٹ ڈیڑھ سو یورو سے کم کے نہیں مل رہے تھے۔ ہم دونوں تصویریں بناتے ہوئے گلاس پیرامڈ کی سمت جا نکلے۔ وہاں دیکھا کہ بہت سارے لوگ قطار میں کھڑے ہوئے ہیں۔ قریب گئے تو پتہ چلا کہ میوزیم میں جانے والے لوگ ہیں، ٹکٹ اندر جاکر لیں گے۔ ہم بھی ان میں شامل ہو گئے۔ ہزاروں سادہ اور ڈائمنڈ تراش والی تکون شیشوں سے بنے پیرامڈ کے نیچے زمین دوز ہال تھا جہاں بہت سے قد آدم شیشے کی دیواروں والے کاؤنٹر بنے ہوئے تھے۔ برقی زینے چل رہے تھے۔ میں ایک برقی زینے کے پاس عروس کو کھڑا کرکے ٹکٹ لینے چلا گیا۔

چونسٹھ یوروز میں دو ٹکٹ لے کر واپس لوٹا تو بھول گیا کہ عروس کو کس برقی زینے کے پاس کھڑا کیا تھا۔ کیونکہ پیرامڈ چاروں طرف سے ایک جیسا تھا۔ آخر کار عروس کو دیکھ لیا اور پھر ہم پیرامڈ کی زمین دوز........

© Daily Urdu