Hum Sab Iss Shehar Ke Qari Hain
ہم سب اس شہر کے قاری ہیں
شہر صبح سویرے جاگتا تھا، مگر کسی زندہ وجود کی طرح نہیں۔ یوں لگتا جیسے رات بھر کسی نے اس کے سینے پر ایک بھاری پتھر رکھا ہو اور اب وہ اسی پتھر سمیت بازاروں، دفتروں، عدالتوں، تھانوں، مدرسوں، جامعات اور ایوانوں کی طرف چل پڑا ہو۔ لوگ وضو کرتے، دعائیں مانگتے، بچوں کو اسکول بھیجتے، رزقِ حلال کی بات کرتے اور پھر دن چڑھتے ہی وہی کام شروع کر دیتے جن پر رات کو خدا سے معافی مانگی تھی۔ شہر میں گناہ سے زیادہ توبہ کا شور تھا اور توبہ سے زیادہ گناہ کی ضد۔ ہر آدمی کو یقین تھا کہ خرابی کہیں اور ہے۔ افسر کہتا سیاست دان خراب ہے، سیاست دان کہتا عوام ناسمجھ ہیں، واعظ کہتا نئی نسل بگڑ گئی، باپ کہتا بیٹا نافرمان ہے، بیٹا کہتا زمانہ خراب ہے۔ کوئی اپنے اندر جھانکنے کو تیار نہ تھا۔
اسی شہر میں ایک آدمی روز صبح اخبار خریدتا تھا۔ قتل، زیادتی، بھوک، جبری گمشدگی، رشوت، بچوں پر تشدد، مذہبی نفرت، عورتوں کی تذلیل، مزدور کی موت، کسان کی بے بسی، اسپتال کی غفلت اور عدالتوں میں برسوں لٹکتے مقدمے پڑھتا۔ کبھی ایک خبر پر افسوس کا نشان بنا دیتا، کبھی کسی لاش کی تصویر دیکھ کر زبان سے "اللہ رحم کرے" نکل جاتا، پھر چائے کا گھونٹ لیتا اور اگلے صفحے پر کھیلوں کی خبر پڑھنے لگتا۔ اسے اپنے دل کی نرمی پر بڑا اعتماد تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ کسی حادثے پر........
