Pinjre Se Parwaz
صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ مشرق کی پیشانی پر سنہری روشنی کا پہلا لمس نمودار ہو رہا تھا۔ شبنم کے قطرے گھاس کی نوکوں پر اس طرح جھلملا رہے تھے جیسے کسی درویش کی دُعا آنکھوں میں موتی بن کر ٹھہر گئی ہو۔ پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر آسمان پر اُمید کے دائرے بنا رہے تھے اور ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں سے رازدارانہ سرگوشیاں کر رہی تھی۔
بارہ سالہ احسن اپنی نیلی وردی پہنے، بستہ کندھے پر لٹکائے، سکول کی طرف رواں تھا۔ اس کی ماں نے دروازے تک آ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"بیٹا! سیدھا سکول جانا، راستے میں کسی اجنبی سے بات مت کرنا"۔
احسن ہنس کر بولا: "امی! آپ فکر نہ کریں، میں جلد واپس آ جاؤں گا"۔
ماں نے آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا کی مگر تقدیر کے پردے میں ایک ایسا منظر لکھا جا چکا تھا جس سے ہر کوئی بے خبر تھا۔
راستہ باغ کے کنارے سے گزرتا تھا۔ درخت ایسے کھڑے تھے جیسے وقت کے بزرگ گواہ ہوں۔ اچانک ایک سفید وین آ کر رُکی۔ دو آدمی اُترے۔ ایک نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا! ذرا یہ پتہ بتا دو"۔
احسن ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ دوسرے آدمی نے پیچھے سے اس کا منہ دبا لیا۔ پلک جھپکتے ہی اسے گاڑی میں دھکیل دیا گیا۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرتی ہوئی دور نکل گئی۔
احسن کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے سورج اچانک بجھ گیا ہو اور روشنی کو کسی نے زنجیروں میں جکڑ دیا ہو۔
اِدھر گھر میں قیامت برپا تھی۔ دوپہر تک جب احسن واپس نہ آیا تو ماں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں۔ والد نے دوستوں، رشتہ داروں اور سکول میں تلاش شروع کر دی۔
کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔
"اگر بچے کو زندہ........
