Main Shayar Nahi Badurqa Hoon
میں شاعر نہیں بدرقہ ہوں
میں نے جانا ہے کہ زندگی خواہ کتنی ہی مشکل اور صبر آزما کیوں نہ ہو۔ ہمیں اس کے ساتھ بہرحال چلنا ہی پڑتا ہے۔ خواہی ناخواہی اس کا دامن چھوڑنا کسی کو بھی گوارا نہیں۔ میں نے زندگی کو سینکڑوں تناظر میں دیکھا ہے۔ اس نے مجھے حیران ہی کیا ہے۔ کیا کروں کہ میں مر کر بھی جینے کی کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے مر جانے کا فلسفہ میرے شعور کے وجدان میں کہیں گوشہ نشیں ہوگیا ہے۔ وقت بھی کڑا امتحان لیتا ہے۔ یہ کسی کو اپنے معیار پر پورا اُترنے کاموقع فراہم نہیں کرتا۔
میں نے چاہا کہ اپنے زخموں کو سمجھوتے کے پھاہے سے مندمل کر سکوں لیکن یہ بھی معمولی کام نہ ہوسکا۔ میں نے چاہا تھا کہ جو میرے ساتھ چلے ہیں، میں ان کے ساتھ چلتا رہوں، سو، یہ بھی مجھ سے نہ ہوسکا۔ میں نے چاہا تھا کہ میں شعور سنبھالنے کے بعد دُنیا کو اپنے ڈھب پر جینا سکھاؤں گا مگر میرے اپنے پاؤں قدم قدم پر ڈگمگاتے رہے۔ میں نے چاہا تھا کہ محبت میرے گھر کی دیواروں پر رقص کرے مگر رنجوری نے میرے پاؤں باندھے رکھے۔ میں نے بہت کچھ چاہا........
