Wo Phool Jo Bin Khilay Murjha Gaye
وہ پھول جو بن کھلے مرجھا گئے
پمز میں چودہ بچوں کی شہادت ایک ایسا دل ہلا دینے والا سانحہ تھا کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود اس حادثہ پر قلم اٹھانا مشکل تھا، لیکن اس پر بولنا ضروری تھا، ہمارا معاشرہ بے حسی کی کس نہج پر جا رہا ہے ایک طرف معصوم بچیاں درندگی کا شکار ہو رہی ہیں، یہ سب کچھ کیوں؟ اس سب کا ذمہ دار کون؟
چودہ معصوم بچے، یہ پھول جو کھلتے ہی مرجھا گئے، اس کا ذمہ دار اوپر سے لے کر نیچے تک، حکومت سے لے چوکیدار تک، معاشرہ یہ بے حس معاشرہ سب ذمہ دار ہیں۔
یہ غلط نظام جس کا میں رونا روتی رہتی ہوں وہ سب لوگ جو پرائیوئیٹ علاج کرواسکتے ہیں اور جو اتنی فیسیں نہیں دے سکتے، ان کے بچے یا تو چوری ہو جاتے ہیں یا اس طرح جل جاتے ہیں۔
یہ ملک ہم نے یہ سب کچھ برداشت کرنے کے لئے تو نہیں لیا تھا۔ طاقتور سب مراعات استعمال کریں اور غریب پستا چلا جائے۔ بچے بھی اس کے مریں۔ آخر کیوں اور کب تک؟
یہ کوئی آفاقی حادثہ نہیں تھا کہ انسان کہہ دے کہ میں بے بس ہوں۔ اللہ نے تو انسان کو عقل دی اور کہہ دیا کہ وہ آفاقی حادثوں کے بارے میں بھی مجبور نہیں ہے؟ وہ علم کی قوت کا استعمال کرکے تمام آفاقی حادثوں پر قابو پا سکتا ہے اور مغرب نے ان حادثوں پر کافی حد تک قابو پایا بھی۔
انھوں نے تو سمندر کو پیچھے دھکیل کر ہالینڈ بنا ڈالا اور ہم اپنی نا اہلی سے ان حادثوں کو بھی روک نہیں........
