Higher Education Ke Uljhe Dhaage
ہائیر ایجوکیشن کے الجھے دھاگے
"آپ کی بیٹی نے سنگاپور کی دوسری بہترین یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ اس کے بعد تو اسے بہت بہتر جاب مل سکتی تھی، اس نے نرسری ٹیچر کی جاب کیوں اختیار کی؟" ہم نے اپنے میزبان سے سوال کیا۔
ہوانگ نے مسکراتے ہوئے ہماری جانب دیکھا اور جواب دیا: آپ کو شاید اندازہ نہیں کہ سنگاپور میں نرسری ٹیچر کی ملازمت کس قدر مشکل سے ملتی ہے، اس پروفیشن کی عزت بھی بہت ہے اور تنخواہ بھی بہت معقول، اسی لیے اس فیلڈ میں ہر کس وناکس کا شامل ہونا آسان نہیں!
ہم حیرت سے میزبان کی باتیں سن رہے تھے۔ بولے: ماسٹرز کرنے کے باوجود اسے دو سال کی ٹریننگ اور نگرانی کے عمل سے گزرنے کے بعد انفرادی طور پر کلاس پڑھانے کی اجازت ملی!
لگ بھگ بیس سال قبل ہوئے۔ اس مکالمے نے ہمیں سوچ میں ڈال دیا، جو قوم ابتدائی اسکول کلاسز کے معیار پر اس قدر سنجیدہ اور کمربستہ ہے، اس کی اعلیٰ تعلیم کا معیار بھی شاندار ہونا لازم ہے۔
کچھ یہی عالم ہم نے ان دنوں ہانگ کانگ، جنوبی کوریا، تائیوان میں بھی دیکھا جو اس زمانے میں ایشیائی اقتصادی ٹائیگرز کہلاتے تھے۔ اقتصادی ترقی، ٹیکنالوجی میں دسترس، صنعتی پیداوار میں مہارت اور انٹرنیشنل مارکیٹ کے مسابقتی ماحول میں مقام بنانے کے سب راستے ملک میں رائج تعلیمی نظام اور معیاری تعلیم بطور قومی ترجیح کی دہلیز سے گزرتے ہیں۔
اس معیار پر ہم اپنے ملک کو پرکھیں تو آسانی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہم وہاں کیوں نہیں ہیں جس کی خواہش تو سب کو ہے لیکن ہمت اور سکت جواب دے چکی ہے۔ پاکستان کا تعلیمی نظام بنیادی طور پر........
