menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dil, Daleel Aur Zimmedari Ke Darmiyan Kashmakash

35 0
05.03.2026

دل، دلیل اور ذمہ داری کے درمیان کشمکش‎

کبھی کبھی انسان کسی محفل میں بیٹھا ہوتا ہے مگر اسے محسوس ہوتا ہے کہ اصل کہانی الفاظ کے درمیان نہیں، لہجوں کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ ہنسی کے پردے میں چھپا ہوا تحقیر کا زہر، مذاق کے نام پر کی جانے والی تضحیک اور محبت کے دعوؤں کے بیچ اُگتی ہوئی بے اعتنائی، یہ سب ہمارے معاشرے کی اُن خاموش دراڑوں کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم عام سمجھ کر نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں الفاظ کی چمک نے معنی کی گہرائی کو دھندلا دیا ہے، جہاں اظہار کی کثرت ہے مگر اخلاص کی قلت ہے، جہاں تعلقات ہیں مگر تعلق کی روح کم ہوتی جا رہی ہے۔

شادی کا بندھن ہو یا دو انسانوں کے بیچ کوئی بھی اور رشتہ، اصل امتحان ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ کیا ہم دوسرے کو انسان سمجھتے ہیں یا محض اپنی ضرورت کا وسیلہ؟ کہا جاتا ہے کہ جذباتی ہم آہنگی نہیں تھی، ذہنی معیار برابر نہیں تھا، بات چیت کا لیول مختلف تھا۔ گویا شادی کوئی روحانی و اخلاقی عہد نہیں بلکہ ایک ادبی مقابلہ ہے جہاں دونوں فریقین کو ایک ہی کتاب کی فہرست یاد ہونی چاہیے۔ حالانکہ نکاح دو دلوں کا معاہدہ ہے، دو جانوں کا ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہے جو لازمی کسی نہ کسی طور کمزور ہوتی ہیں، دو انسانوں کا ایک دوسرے کی کمی کو ڈھانپ لینا ہے۔ اگر معیار صرف "ذہنی ہم آہنگی" ہو، تو پھر صبر، ایثار اور ذمہ داری جیسے الفاظ لغت سے نکال دینے چاہییں۔

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب فلسفہ جنم لے چکا ہے کہ اگر جذباتی یا ذہنی سطح پر مطابقت نہ ہو تو رشتے کی حرمت کم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ رشتہ مطابقت سے زیادہ برداشت کا نام ہے اور محبت ہم آہنگی سے زیادہ ذمہ داری کا۔ نکاح ہو یا دوستی، یہ کتاب نہیں کہ جب تک دل بہلتا رہے........

© Daily Urdu