menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pathar Ke Zamane Se AI Tak (17)

72 0
10.09.2026

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (17)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی، وہ چھوٹی سی تنگ سی پرانی دکان تھی جس کے دروازے پر لوہے کی موٹی گرل تھی، وہاں شام کے وقت بہت بھیڑ ہوتی تھی، لوگ سارا دن کام کرکے پیسے اکٹھے کرتے تھے اور پھر شراب کی دکان کے سامنے کھڑے ہو جاتے تھے، ہم بچوں کو مائیں شام کے وقت باہر نہیں نکلنے دیتی تھیں، شراب بیچنے والے کا رنگ کالا سیاہ اور آنکھیں لال اور ابلی ہوئی تھیں، اس کی آواز بھی بھدی تھی، لوگ اسے "چوہڑا" کہتے تھے اور اس سے ملنے ملانے سے پرہیز کرتے تھے، وہ عصر کے بعد آتا تھا، چپ چاپ دکان کا شٹر اوپر کرتا تھا اور اندر داخل ہو جاتا تھا، دکان کے مرکزی دروازے پر چھوٹی سی کھڑکی تھی جس سے وہ پیسے وصول کرکے شراب کی بوتل باہر لڑھکا دیتا تھا، شراب کی بوتل چپٹی ہوتی تھی اور اس میں سرخ اور بعض اوقات برائون رنگ کا محلول ہوتا تھا، اس زمانے میں سونف کی شراب آتی تھی، اس سے سونف کی خوشبو آتی تھی جب کہ ہم نے مختلف لوگوں کے منہ سے برانڈی (شرابی اسے بلانڈی کہتے تھے) کا لفظ بھی سنا۔

اس زمانے میں شاید پاکستان میں وائین نہیں ہوتی تھی لہٰذا کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا تھا تاہم وہسکی اور سپرٹ کا لفظ عام تھا، سپرٹ شاید کوئی دیسی نسخہ تھا جو بہت سستا ملتا تھا، وہ پابندی کے دور میں بھی دستیاب رہا، اسے بڑے بازار میں "ڈاکٹر بھٹی" بیچتا تھا، پولیس آئے روز اس کے کلینک اور گھر پر ریڈ کرتی رہتی تھی، ڈاکٹر بھٹی کمپائونڈر(کمپوڈر) تھا، اس زمانے میں کمپائونڈر بھی ڈاکٹر کہلاتے تھے، بہرحال ہماری گلی شراب خانے کی وجہ سے خاصی بدنام تھی، شراب کا دھندہ رات تک چلتا رہتا تھا، میں صبح دودھ لینے جاتا تھا تو میں اکثر شرابیوں کو نالیوں میں گرے دیکھتا تھا اور ان پر کتے "موت" رہے ہوتے تھے، وہ ایک عبرت ناک منظر ہوتا تھا، وہ نقشہ میرے ذہن میں بیٹھ گیا اور شاید میں اس کی وجہ سے زندگی میں شراب سے بچا رہا ورنہ میرے بے شمار کولیگز ہمہ وقت شرابی تھے، میں ان میں اٹھتا بیٹھتا تھا لیکن میں شراب سے محفوظ رہا۔

مجھے سگریٹ سے بھی پوری زندگی نفرت رہی، اس کی وجہ تمباکو کی بو تھی، ہمارے سارے بزرگ حقہ اور سگریٹ پیتے تھے، ان سے ایک ناگوار سی بو آتی رہتی تھی، دوسرا وہ تمباکو کے عادی ہو چکے تھے، سگریٹ اور حقے کے بغیر ان کی رات گزرتی تھی اور نہ دن، وہ کہیں جانے سے قبل حقے کے بارے میں پوچھتے تھے، حقہ تیار کرنا ایک تکنیکی اور مشکل کام ہوتا تھا، مجھے اس........

© Daily Urdu