menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Operation Bunyan Ul Marsoos (5)

50 0
10.05.2026

آپریشن بنیان المرصوص (5)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا دیتے تھے، کسی نے ان سے پوچھا "ہم عموماً دوسروں کو صحت اور کام یابی کی دعا دیتے ہیں لیکن آپ کی دعا صرف گڈ لگ تک پر محدود ہوتی ہے، کیا آپ صحت اور کام یابی کو اہم نہیں سمجھتے؟" چرچل نے مسکراکر کہا "میں بھی کام یابی اور صحت کو بہت اہمیت دیتا تھا، میں سمجھتا تھا صحت ہے تو زندگی ہے اور اگر آپ کام یاب نہیں ہیں تو پھر آپ زندہ رہیں یا مر جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پھر میری زندگی میں ٹائی ٹینک آیا اور میرا زاویہ نظر تبدیل ہوگیا"۔

چرچل کا کہنا تھا "ٹائی ٹینک میں اپنے زمانے کے صحت مند اور کام یاب ترین لوگ سوار تھے، دنیا کے سب سے بڑے اور مہنگے جہاز کی فرسٹ کلاس میں برطانیہ اور امریکا کے 324 کام یاب بزنس مین، صنعت کار، تاجر اور زمین دار تھے، وہ لوگ لاکھوں پائونڈز کے مالک اور بڑے بڑے عہدے دار تھے، صحت مند بھی تھے لیکن جب جہاز آئس برگ سے ٹکرایا تو وہ کام یاب اور صحت مند لوگ مچھلیوں کی خوراک بن گئے، ان کی صحت اور کام یابی انہیں بچا نہیں سکی جب کہ خوش نصیب لوگ ٹکٹ کے باوجود ٹائی ٹینک میں سوار نہیں ہو سکے، کسی کے بچے کی ٹانگ ٹوٹ گئی، کوئی راستہ بھٹک گیااور کسی کا ٹکٹ چوری ہوگیا حتیٰ کہ ایک مسافر کے کتے نے جہاز کی سیڑھیوں پر پاخانہ کر دیا، مالک کو غصہ آ گیا اور وہ کتے کو پورٹ پر چھوڑ کر جہاز میں سوار ہوگیا، کتا چیختا رہا لیکن اس کا دل موم نہیں ہوا اور یوں کتا بچ گیا اور مالک ڈوب کر مر گیا چناں چہ میں نے اس سانحے سے سیکھا انسان کو صحت اور کام یابی سے زیادہ خوش نصیبی کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کتا مالک سے زیادہ خوش نصیب تھا، وہ بچ گیا اور مالک مر گیا لہٰذا جس کو بھی دعا دو خوش نصیبی (گڈ لک) کی دعا دو، قسمت کے سامنے صحت اور کام یابی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی"۔

سر ونسٹن چرچل نے دریا کو کوزے میں بندکر دیا، خوش نصیبی کا واقعی کوئی بدل کوئی توڑ نہیں ہو سکتا، حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ سے ایک دن پوچھا "یا باری تعالیٰ کیا آپ کو بھی کبھی ہنسی آتی ہے، اللہ نے جواب دیا موسیٰ میں دو مواقع پر بہت ہنستا ہوں، ایک جب میں کسی سے کوئی چیز، رتبہ یا سہولت چھیننا چاہوں اور پوری دنیا وہ اس کے پاس رکھنا چاہے تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے اور دوسرا جب میں کسی کو کوئی سہولت، رتبہ یا چیز دینا چاہوں اور دنیا وہ اس سے چھیننا چاہے تو بھی مجھے بہت ہنسی آتی ہے کیوں کہ چھیننا اور دینا دونوں میری مرضی کے پابند ہوتے ہیں، یہ فیصلہ میں کرتا ہوں، واصف علی واصف صاحب نے کیا خوب فرمایا تھا، خوش نصیب وہ ہوتا........

© Daily Urdu