menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Balochistan Doob Raha Hai (2)

76 0
20.09.2026

بلوچستان ڈوب رہا ہے (2)

بلوچستان کی تاریخ کا آغاز مہرگڑھ سے ہوتا ہے، سات ہزار قبل مسیح (نو ہزار سال قبل) میں درہ بولان کے ساتھ کچی کے میدانوں میں ایک تہذیب ہوتی تھی، یہ دریائے مہران کی وجہ سے مہر گڑھ کہلاتی ہے، وہ آج کے کوئٹہ، قلات اور سبی تک پھیلی ہوئی تھی، وہ دریائے نیل، دریائے فرات اور دریائے دجلہ کی تہذیبوں کا سلسلہ تھی، مہر گڑھ کے لوگ بعدازاں دریائے سندھ، دریائے گنگا اور جمنا کے کناروں پر آباد ہوئے جن سے موہن جو داڑو، ہڑپہ اور ہندو تہذیبوں نے جنم لیا۔

مہرگڑھ کے لوگ گندم اور جو اگاتے تھے، جانور پالتے تھے، مٹی کو پکا کر اینٹیں اور برتن بناتے تھے اور ان پر باقاعدہ بیل اور بوٹے نقش کرتے تھے، وہ تجارت بھی کرتے تھے، ان کا سامان ایران، ترکیہ، عراق اور مصر تک جاتا تھا، وہ لوگ غلہ بھی سٹور کرتے تھے اور کھجوریں بھی اگاتے تھے، وہ ٹوکریاں بناتے، پتھر تراشتے، جانوروں کی ہڈیوں سے آلات اور موتیوں سے زیورات بناتے تھے اور جانوروں کی قربانی دیتے تھے، مہرگڑھ سے عورتوں کی مورتیاں، تصویریں اور چوڑیاں تک برآمد ہوئیں، وہ لاشوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں طریقوں سے دفن کرتے تھے، میتیں شمال سے جنوب کی طرف دفن کی جاتی تھیں جب کہ بچوں کی قبروں سے ہڈیاں نکال کر مرتبانوں میں محفوظ کر لی جاتی تھیں، وہ لوگ تانبے کا استعمال بھی جانتے تھے اور دھاتی آلات کے اوپر چربی چڑھا کر انہیں زنگ سے بھی محفوظ کر لیتے تھے۔

ان کی زبان دراوڑی تھی، وہ پتھروں پر لکھ بھی لیتے تھے، مہر گڑھ کی آبادیاں اور ان سے برآمد ہونے والے 32 ہزار نوادرات آج تک موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے وہ دنیا میں دانت کا علاج کرنے والے پہلے لوگ تھے، مہرگڑھ سے دانت کی صفائی اور اسے نکالنے کے آلات بھی ملے ہیں، بہرحال قصہ مختصر وقت بدلتا رہا اور سلطنتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں، اس دوران ہندوازم بھی آیا، سائرس اول بھی آیا اور سکندراعظم بھی، مہر گڑھ کے لوگ اس دوران موجودہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آباد رہے، اس دوران سنٹرل ایشیا میں ایران اور ترکیہ دو بڑی ریاستیں قائم ہوئیں اور آدھی دنیا ان کے زیر اثر ہوگئی۔

دسویں صدی عیسوی میں شام کے علاقے حلب میں چند قبیلے رہتے تھے، ان کی آوازیں بہت بلند تھیں، وہ پہاڑ کی ایک سائیڈ سے آواز لگاتے تھے اور وہ آواز دوسری سائیڈ پر سنی جا سکتی تھی، وہ لوگ اپنی بلند آواز کی وجہ سے بلوچ یا بلوچی کہلاتے تھے، قدیم عربی میں بلند آہنگ لوگوں کو بلوچ کہا جاتا تھا، اس زمانے میں سپہ گری سب سے بڑا پیشہ ہوتا تھا، بادشاہ مضبوط اور ہنر مند لوگوں کو اپنے لشکر میں بھرتی کر لیا کرتے تھے، بلوچوں کو مختلف ایرانی بادشاہوں نے اپنے لشکروں میں شامل کر لیا، یہ لوگ جری اور خطرناک تھے اور یہ جنگ کے دوران اپنے بلند آہنگ (للکار) سے دشمن کو لرزا بھی دیتے تھے چناں چہ یہ بادشاہوں کے قریب ہوتے چلے گئے، یہ اپنی فوجی مصروفیت اور شام کی خانہ جنگیوں کی وجہ سے کیسپیئن سی اور ایرانی پہاڑ کوہ البرزہ میں آباد ہو تے چلے گئے۔

سنٹرل ایشیا میں 1037ء میں سلجوق سلطنت بنی اور سلجوق حکمران طغرل اول نے 1040ء میں........

© Daily Urdu