menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Raqs e Zindagi, Thokron Ke Sehne Se Qismatein Badalti Hain

31 0
21.05.2026

رقص زندگی، "ٹھوکروں کے سہنے سے قسمتیں بدلتی ہیں"

گذشتہ روز محترمہ شہناز انجم صاحبہ کا مجموعہ کلام مجھ تک ان کے شریک سفر رفیق منہاس صاحب کے ذریعے پہنچا۔ تو مجھے خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ دیار غیر میں اردو زبان اور ادب کی پذیرائی کے لیے ایسی ہستیاں آج بھی موجود ہیں جو واقعی سچی لگن، محنت اور پرخلوص جذبے سے شعروادب کی خدمت کر رہی ہیں۔ بہترین چھپائی اور خوبصورت مگر بگولوں کی زد میں رقصاں ایک دھندلے سے نسائی پیکر پر مبنی متاثر کن سرورق پورے کلام کو پڑھے جانے پر مجبور کردیتا ہے۔

جیسا کہ اس مجموعہ کے تعارف میں لکھا گیا ہے کہ وطن سے ہزاروں میل دور اسٹاک ہوم سویڈن میں ایشین اردو سوسائٹی اپنی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی وجہ سے قابل قدر نگاہوں سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کے سالانہ مشاعروں میں مقامی شعراء میں خواتین کی نمائندگی کرتے ہوئے جو ایک نام ابھرا وہ محترمہ شہناز انجم کا ہے۔ یقینا" دیار غیر میں یوں پرورش لوح وقلم کا بیڑہ اٹھانا ان کا کمال ٹھہراہے۔ جبکہ دیار غیر میں اس مزاج اور ذوق کے افراد کا اپنی زبان وادب کے لیے اکٹھا ہو جانا ہی بڑی غنیمت ہوتا ہے۔

تتلی کے ساتھ گھوم رہی ہوں چمن میں یوں کچھ یاد آرہا ہے یوں گلزار دیکھ کر

کسی شعری مجموعہ پر تبصرہ محض چند خوبصورت اشعار کی تعریف کا نام نہیں ہوتا بلکہ شاعر کے فکری سفر، فنی شعور، جذباتی صداقت اور اسلوبیاتی انفرادیت کو سمجھنے کا عمل بھی ہوتا ہے۔ ایک اچھا تبصرہ قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ شاعر اپنے عہد، معاشرئے اورداخلی کیفیات کو کس انداز سے لفظوں میں ڈھالتا ہے اور یہی تنقیدی بصیرت کسی مجموعہ کلام کی ادبی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور شاعر کے تخلیقی مقام کا تعین کرتی ہے۔

پورا مجموعہ کلام پڑھے بغیر کوئی تبصرہ کرنا مشکل تھا اس لیے ایک ایک حمد، نعت، نظم اور غزل پڑھ کر ہی رائے دی جاسکتی تھی جو ایک ہی نشست میں ممکن نہ تھا۔ جوں جوں پڑھتا گیا شوق بڑھتا گیا۔ آخر کار سمجھ یہ آیا کہ انسان کہیں بھی ہو........

© Daily Urdu