menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baap Ko Tohfa Mein Ghari Na Dein Waqt Dein

33 0
29.04.2026

باپ کو تحفہ میں گھڑی نہ دیں وقت دیں

زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں ہم سب کسی نہ کسی منزل کے تعاقب میں سرگرداں ہیں۔ کبھی روزگار کی فکر، کبھی بچوں کے مستقبل کی پلاننگ، کبھی معاشرتی مقام کی دوڑ، ان سب میں ہم اتنے الجھ جاتے ہیں کہ وہ ہستیاں، جنہوں نے ہمیں چلنا سکھایا، خود ہمارے انتظار میں ٹھہر سی جاتی ہیں۔ انہی ہستیوں میں سب سے نمایاں نام "باپ" کا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ جملہ ایک سچائی بن کر سامنے آتا ہے: باپ کو تحفہ میں گھڑی نہ دیں، وقت دیں۔ آج میں خود شرمندہ ہوتا ہوں کہ شاید میں نے اپنے اباجی! کو گھڑی سمیت دنیا کی بڑی آسائشیں دی ہوں گی مگر وقت نہ دے سکا۔ گذشتہ روز میری بیوی پرانی گھڑیاں نکال رہی تھی جو مجھے میرے دوستوں اور بچوں نے مختلف اوقات میں بطور تحفہ دی تھیں جبکہ وہ سب جانتے ہیں کہ میں گھڑی نہیں پہنتا۔ تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک باپ کے لیے گھڑی زیادہ قیمتی ہے یا وقت؟

باپ جو بچپن کی دھوپ سے پناہ دینے کے لیے۔ وہ ہمارے لیے دیوار بھی بنا، سائبان بھی اور راستہ بھی۔ اس نے اپنی جوانی کے بہترین سال ہمارے خوابوں کی تکمیل میں صرف کر دیے۔ وہ ہمیں وہ کچھ بنانا چاہتا تھا جو وہ خود نہ بن سکا۔ وہ خود شاید اچھے کپڑے نہ پہن سکا، مگر ہمیں بہترین لباس دیا۔ وہ خود شاید آرام نہ کر سکا، مگر ہماری راحت کا ہر ممکن انتظام کیا۔ مگر جب وقت آتا ہے کہ ہم اس کے احسانات کا کچھ بدلہ چکا سکیں، تو ہم اکثر "مصروفیت" کا سہارا لے کر اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مہنگے تحفے، قیمتی گھڑیاں، یا بڑے بڑے سرپرائزز ہی........

© Daily Urdu