menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shanghai Taawun Tanzeem Ke 25 Baras

35 0
01.09.2026

شنگھائی تعاون تنظیم کے پچیس برس

وسطی ایشیائی ملک کرغستان کا دارلحکومت بشکیک شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی وجہ سے اِن دنوں عالمی سفارتکاری کا مرکز بناہوا ہے۔ اِس دو روزہ سربراہی اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران، بیلا روس سمیت وسطی ایشیا کے چار ممالک قازقستان، کرغستان، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنما شریک ہیں۔ یہ تنظیم اپنے قیام کے پچیس برس مکمل کرچکی ہے تنظیم کی آئندہ صدارت پاکستان کو منتقل ہونے سے اگلے برس کے سربراہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام 2001 میں چین کے شہر شنگھائی میں ہوا۔ چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان بانی اراکین کہلائے۔ اِس کا بنیادی مقصد سرحدی تنازعات کے خاتمے، باہمی اعتماد، علاقائی سلامتی، دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف تعاون تھا۔ وقت کے ساتھ تنظیم کا دائرہ کارسلامتی سے نکل کر تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، رابطہ کاری، ثقافت، تعلیم اور معیشت تک وسیع کردیا گیا۔ پچیس برس میں ایس سی او کا سب سے بڑا سفر اِس کا پھیلاؤ ہے۔ بھارت اور پاکستان 2017 میں اِس کے مستقل رُکن بنے ایران 2023 میں جبکہ بیلا روس نے 2024 میں مکمل رُکنیت حاصل کی۔ ممبران ممالک کا مجموعی رقبہ تین کروڑ ساٹھ لاکھ مربع کلومیٹر اور آبادی 3.4 ارب سے زیادہ ہے لہذا کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی تقریباَ َنصف آبادی اِس کے رُکن ممالک میں آباد ہے عالمی معیشت میں اِس کا حصہ تقریباََ ایک چوتھائی کے قریب ہے۔

اگر قدرتی وسائل کی بات کی جائے تو ایس سی او کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روس کے پاس دنیا کے بڑے تیل، گیس، کوئلہ سمیت دیگر........

© Daily Urdu