Multani Ki Multan Se Mulaqat
ملتانی کی ملتان سے ملاقات
ہم ملتانیوں کی پہلی اور آخری محبت ملتان ہی ہے یقیناً دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی جنم بھومیوں سے محبت کرتے ہوں گے ہونی بھی چاہئے ملتانیوں کا معاملہ کچھ الگ اور "وکھرا وکھرا" ہے۔ ملتانی ملتان میں رہے یا بیرونِ ملتان دنیا کے کسی بھی گوشے میں وہ ملتان سے جدا نہیں رہ سکتا اپنے اندر ملتان آباد کیئے شاداں و مست رہتا ہے۔
سینہ در سینہ روایت ہے کہ کبھی ملتانی اپنے شہر میں ہی ایک علاقے سے دوسرے علاقے کیلئے روانہ ہوتا تو گلی محلے کی نُکر تک گھر کے افراد رخصت کرنے ساتھ آتے۔ شہر سے باہر جانا ہو تو گھر والوں کے ساتھ دوست احباب ریلوے اسٹیشن یا بس اسٹینڈ تک ہمراہ ہوتے۔ سفر پر رخصت ہونے کے اس مرحلے سے منسوب جو باتیں ہماری نسل تک پہنچیں وہ بہت دلچسپ ہیں وہ باتیں یاد آتی ہیں تو چہرے پر مسکراہٹ رقص کرتی ہے اور اُداسی دور اندر تک اترنے لگتی ہے۔
ہم ملتانیوں کی نئی نسل ان سینہ بہ سینہ روایات سے ناواقف ہے لیکن ملتان سے ان کی محبت بھی مثالی ہے ملتان ملتانیوں کا کُل جہان ہے کیوں نہ ہو ایک دو نہیں معلوم تاریخ کی پانچ سات ہزاریوں سے زندہ و تابندہ شہر ہے۔ یہ ہمارے بڑے بوڑھے تو دعا دیتے وقت بھی کہا کرتے تھے "ویہڑے وسنڑ ملتانیاں دے قیامت تائیں"۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے تحریر نویس یہ کیا ملتان کا ذکر لے بیٹھا ہے اللہ مولا خیر رکھیں ہمارا بس چلے تو ہمہ وقت ذکر ملتان ہی کرتے رہیں ذکر یار کی طرح۔
ہم ابھی تین دن پہلے اپنی جنم بھومی میں چار دن بسر کرکے واپس آئے ہیں۔ یہ واپسی رزق اور خانگی مجبوریوں یا یوں کہہ لیجے ذمہ داریوں سے بندھی ہے۔ ملتان فقط میرا جنم شہر نہیں یہ ہماری امڑی سینڑ (والدہ حضور) کا بھی جنم شہر ہے........
