menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bharat Mein Talba Ki Ehtejaji Tehreek Aur Hum

20 0
26.07.2026

بھارت میں طلبا کی احتجاجی تحریک اور "ہم"

دہلی میں بھارتی وزیراعظم کی رہائش گاہ "جنتر منتر" کے باہر کاکروچ جنتا پارٹی کے طلبا کا دھرنا تادم تحریر جاری ہے، 20 جولائی کو جب دھرنے کے شرکا نے جلوس کی صورت میں بھارتی پارلیمنٹ کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس و دیگر سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لاٹھی بردار سادہ پوش طلبا و طالبات پر بے رحمی سے پل پڑے۔ سینکڑوں طلبا و طالبات زخمی ہوئے درجنوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ دھرنے کے منتظمین دعویدار ہیں کہ 20 جولائی کے پولیس تشدد سے ایک طالبہ سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے۔

منتظمین نے الزام لگایا کہ دہلی پولیس کے سربراہ کے حکم پر طالبات کو بطور خاص تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس اہلکاروں نے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں بھی کیا۔ جنتر منتر کے باہر دھرنے میں راہول گاندھی سمیت درجنوں اپوزیشن رہنما اور مختلف شخصیات یکجہتی کے اظہار کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ اس دھرنے اور احتجاج کے تین پہلو قابل غور ہیں اولاً یہ کہ دہلی دھرنے میں بھارت بھر تمام ریاستوں (صوبوں) سے طلبا و طالبات کی نمائندگی کی جارہی ہے نیز دہلی اور قرب و جوار کے سکولوں کے طلبا بھی احتجاج میں اس موقف کے ساتھ موجود ہیں کہ "یہ ہمارے مستقبل کی لڑائی ہے اس لئے ہم یہاں آئے تاکہ جو آج ہو رہا ہے کل ہمارے ساتھ نہ ہونے پائے"۔

ثانیاً دھرنے کے مقام پر والدین اور خصوصاً مائیں بچوں سے یکجہتی کے لئے پہنچتی ہیں۔ بعض والدین انتہائی کم عمر بچوں کے ہمراہ یہ کہتے ہوئے دھرنے میں شرکت کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ثالثاً دھرنے میں شریک طلبا و طالبات کا روشنی سے بھرا عصری شعور ہے وہ اپنے مطالبات کو زمین زادوں کے طور پر اجتماعی مقصد قرار دیتے ہوئے ذات پات اور دھرم و عقیدے کی باتوں کو اپنی جدوجہد پر حملہ قرار دیتے ہیں۔........

© Daily Urdu