Naya Mahaaz
کبھی کبھی قومیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی وطن کا دفاع کرتی ہیں۔ آج کے دور میں جنگ کا میدان صرف پہاڑ، سمندر یا فضائیں نہیں رہیں بلکہ موبائل فون کی سکرینیں، سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز اور نوجوانوں کے اذہان بھی ایک بڑا محاذ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ راولپنڈی میں منعقد ہونے والی نیشنل سکیورٹی اینڈ سٹریٹیجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026ء محض ایک رسمی سرکاری تقریب محسوس نہیں ہوئی بلکہ یہ مستقبل کے پاکستان کے فکری خدوخال پر ہونے والا ایک سنجیدہ مکالمہ دکھائی دی۔ اس نشست میں ملک بھر کی دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر پروفیسرز کی شرکت دراصل اس حقیقت کا اعتراف تھی کہ آنے والے برسوں میں قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ شعور، تحقیق، بیانیے اور درست معلومات سے ناپی جائے گی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نشست میں شریک تعلیمی قیادت نے قومی سلامتی کو صرف عسکری زاویے سے نہیں دیکھا بلکہ اسے نوجوان نسل کے فکری تحفظ، ڈیجیٹل آگاہی اور سماجی استحکام سے جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے، کیونکہ ہمارے ہاں طویل عرصے تک تعلیمی ادارے اور ریاستی ادارے دو الگ دنیاؤں کی طرح دکھائی دیتے رہے۔ ایک طرف یونیورسٹیاں تھیں جہاں نظریات،........
