Dafa 144, Siasi Haq Aur Shehri Tahafuz Ke Darmiyan Tawazun
دفعہ 144، سیاسی حق اور شہری تحفظ کے درمیان توازن
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ پر تنقید کو صرف سیاسی آزادی اور سیاسی انتقام کے زاویے سے دیکھنا اس پیچیدہ صورتِ حال کے ایک اہم پہلو کو نظرانداز کرنا ہے۔ جمہوری معاشرے میں احتجاج، جلسہ، جلوس اور سیاسی اجتماع یقیناً شہری اور سیاسی حقوق کا حصہ ہیں، لیکن کوئی بھی بنیادی حق مطلق اور غیر مشروط نہیں ہوتا۔ ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ شہریوں کو سیاسی اظہار کا موقع فراہم کرے بلکہ اس پر شہریوں کی جان، مال، امن اور اجتماعی سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ چنانچہ موجودہ صورتِ حال میں اصل سوال یہ نہیں کہ دفعہ 144 کے نفاذ سے سیاسی سرگرمی محدود ہوتی ہے یا نہیں، یہ بات واضح ہے کہ ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ایسی پابندی کے لیے قابلِ اعتبار سکیورٹی جواز موجود تھا، کیا اسے قانونی اختیار کے تحت نافذ کیا گیا، کیا اس کی مدت محدود رکھی گئی اور کیا اس کا دائرۂ کار درپیش خطرے کے مقابلے میں متناسب ہے؟
پنجاب حکومت نے 6 اکتوبر کو صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 15 اکتوبر تک توسیع کی ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے عوامی مقامات، سڑکوں، شاہراہوں اور کھلے مقامات پر اجتماعات، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی حکم میں عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے اور اس کی نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کو ایسے خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں بڑے عوامی اجتماعات کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔ سرکاری حکم میں خودکش حملہ آوروں، گاڑیوں میں نصب دھماکا خیز مواد اور ٹارگٹ کلنگ جیسے ممکنہ خطرات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
یہاں ریاستی ذمہ داری کا بنیادی اصول سمجھنا ضروری ہے۔ حکومت کا فرض صرف یہ نہیں کہ کسی سانحے کے بعد کارروائی کرے، اس کا فرض یہ بھی ہے کہ قابلِ اعتبار خطرے کی اطلاع ملنے پر ممکنہ سانحے کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرے۔ اگر کسی بڑے سیاسی اجتماع کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ اطلاع دیں........
