Zamam e Kaar Ki Amanat: Fikri Jila Aur Ehtesab e Amal Ka Safar
زمامِ کار کی امانت: فکری جلا اور احتسابِ عمل کا سفر
ہر بیدار مغز اور صاحبِ بصیرت انسان کی نگاہ میں یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے پیکرِ ملی کی رگ رگ میں سرایت کرنے والے مالیاتی عوارض، تہی دستی کی لایعنی زنجیریں، ناتواں معیشت کا سست رفتار پہیہ اور چاردانگ عالم سے دست درازی و قرض مانگنے کی یہ مسلسل روش درحقیقت متفرق بیماریاں نہیں بلکہ ایک ہی ناسُورِ کہنہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ روایتی حکمتِ عملیوں نے ہمیشہ عوارض اور علامات کا مداوا کرنے پر اکتفا کیا ہے جبکہ اصل مرض عمیق فکری زوال اور رگِ جاں تک رسائی سے گریز میں مضمر ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہم نے اب تک ایسا بالغ نظر نظامِ اقتدار تعمیر کرنے سے گریز کیا ہے جہاں زمامِ کار فرماں روائی شخصی قربتوں یا روایتی مفادات کی بجائے قطعی پیشہ ورانہ اہلیت، امانت داری، دیانت اور قابلِ پیمائش کارکردگی کے آہنی اصولوں پر استوار ہو۔ آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی جدید صنعتیں اقوام کا مستقبل تشکیل دے رہی ہیں، وہاں سیاسی سرپرستی، عجلت پسندی اور بے یقینی کے سہارے بقا کی جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ نامور مفکرین نے بجا طور پر باور کرایا ہے کہ اجتماعی انقلاب آسمان........
