menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zahanat Ka Inqilab

20 0
02.06.2026

اکیسویں صدی کا عالمی منظرنامہ ایک ایسی خاموش مگر ہمہ گیر تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جس نے صنعتی، معاشی اور سماجی ڈھانچوں کی بنیادیں ازسرِنو ترتیب دینا شروع کردی ہیں۔ یہ تبدیلی نہ توپوں کی گھن گرج سے وابستہ ہے اور نہ روایتی فیکٹریوں کے دھوئیں سے، بلکہ اس کا مرکز ڈیٹا، خودکار نظام، مشینی ادراک اور مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ ٹیکنالوجی ہے جو انسانی فیصلوں، کاروباری ترجیحات اور ریاستی حکمتِ عملیوں کو نئی جہت عطا کررہی ہے۔ دنیا اب اس دور میں داخل ہوچکی ہے جہاں معاشی قوت کا معیار صرف معدنی وسائل، افرادی قوت یا جغرافیائی وسعت نہیں رہا بلکہ اصل برتری اُس قوم کو حاصل ہورہی ہے جو معلومات کو دانش میں اور دانش کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مصنوعی ذہانت درحقیقت جدید عہد کی وہ علمی توانائی ہے جس نے صنعت، تجارت، طب، زراعت، دفاع، تعلیم اور مالیات سمیت تقریباً ہر شعبۂ حیات میں ایک غیر معمولی انقلابی عمل شروع کردیا ہے۔ چند برس قبل تک جو تصورات سائنسی افسانوں کا حصہ سمجھے جاتے تھے، آج وہ عالمی معیشت کے فعال ستون بن چکے ہیں۔ خودکار گاڑیاں، ذہین طبی تشخیص، مشینی ترجمہ، روبوٹک صنعتیں، پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور خودمختار فیصلہ ساز نظام اب محض امکانات نہیں بلکہ روزمرہ حقیقت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں مصنوعی ذہانت کو صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ تزویراتی اقتدار کا........

© Daily Urdu