Naqshe Nahi, Riyasti Mantaq Badalne Ki Zaroorat
نقشے نہیں، ریاستی منطق بدلنے کی ضرورت
کسی نظام کی خرابی ہمیشہ اس مقام پر آشکار نہیں ہوتی جہاں اس کا کوئی پرزہ بظاہر ناکارہ دکھائی دے رہا ہو، بسا اوقات اصل خلل اُن پوشیدہ رشتوں میں سرایت کر جاتا ہے جو نظام کے مختلف اجزا کو باہم مربوط رکھتے ہیں۔ پاکستان میں صوبائی حدود، نئے صوبوں، انتظامی تقسیم، مرکزیت اور عدمِ مرکزیت کی جو بحث آج پھر شدت اختیار کر رہی ہے، اس کے پس پردہ بھی ایک ایسا ہی بنیادی سوال موجود ہے۔ ہم نئی حدبندیاں، نئے صوبے، نئے اضلاع اور نئے انتظامی مراکز بنانے کی بات تو کرتے ہیں، مگر اس سے پہلے یہ سوال پوری دیانت سے نہیں کرتے کہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں معاملہ محض جغرافیہ نہیں رہتا بلکہ "حکمرانی کی حکمت" اور ریاستی منطق کا سوال بن جاتا ہے۔
سیاسی گفتگو میں یہ جملہ کثرت سے سنائی دیتا ہے کہ "نظام ناکام ہو چکا ہے"۔ مگر ناکامیِ نظام کی حقیقت کیا ہے؟ کیا ایک بڑے صوبے کو دو یا تین اکائیوں میں تقسیم کر دینے سے تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان، ٹیکس وصولی اور شہری سہولتوں کے مسائل ازخود تحلیل ہو جائیں گے؟ کیا نقشے پر کھینچی گئی نئی لکیر انتظامی کمزوری، معاشی بدحالی اور ادارہ جاتی بے سمتی کو بھی مٹا سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی تاریخ میں ہر انتظامی بحران کا علاج صرف نئی حدبندی سے ممکن ہو جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ اکثر اختیار کی مقدار سے زیادہ اختیار کے مصرف، سمت اور جواب دہی کا ہوتا ہے۔ کہیں اقتدار اس قدر مرتکز ہے کہ مقامی ضرورت مرکز کی فائلوں میں گم ہو جاتی ہے اور کہیں اختیار اس قدر منتشر کہ ناکامی کی ذمہ داری کسی ایک دروازے پر دستک نہیں دیتی۔
ریاست کی اصل قوت محض دفاتر، عہدوں، قوانین اور انتظامی احکامات میں نہیں ہوتی۔ اس کی حقیقی بنیاد آئین، قانون، ادارہ جاتی تسلسل، عدل اور شہری اعتماد کے اس باہمی میثاق میں ہوتی ہے جس کے بغیر اقتدار تو قائم رہ سکتا ہے، مگر اقتدار کو اخلاقی جواز حاصل نہیں ہوتا۔........
