Jang Ke Khaate Aur Tehzeeb Ke Sawal
جنگ کے کھاتے اور تہذیب کے سوال
ابھی دنیا کی فضا میں بارود کی بو باقی ہے اور زمین کے سینے پر زخموں کی گنتی جاری ہے۔ جنگ صرف میدانِ کارزار کا تماشا نہیں، وہ ایک کھلا محاسبہ ہے، جس میں انسان اپنی عقل، اپنی ہوس، اپنی طاقت اور اپنی حد سے ٹکرا کر یہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنا ہے اور کتنا نہیں۔ تاریخ کی آنکھ نے بارہا دیکھا کہ تلواروں کی چمک اور توپوں کی گرج میں جو قوم اپنی قوت کا بھرم رکھتی ہے، ایک دن وہی قوم اپنے ذخائر کے خالی ہونے کا ماتم کرتی ہے۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں، یہ انسانی تہذیب کے اُس قدیم سبق کا تسلسل ہے جسے قرآن نے ان الفاظ میں سمو دیا: "وَأَعِدُّوا لَهُمُ مَا اسُتَطَعُتُمُ مِنُ قُوَّةٍ"۔ مگر قوت کی تیاری ایک ایسی راہ ہے جہاں ہر قدم پر حساب چاہیے، ورنہ قوت ہی وبالِ جان بن جاتی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ، جو کانگریس کے روبرو پیش کی گئی، اِسی حساب کی ایک جھلک دکھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ نے گولہ بارود کی کمی کو اُس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اسٹریٹجک ذخائر لرز اٹھے ہیں اور صنعتی نظام کی فراہمی کی زنجیریں رکاوٹوں سے دوچار ہوگئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ 28 فروری سے 30 جون کے دوران آپریشن "ایپک فیوری" پر مجموعی طور پر 92 کھرب 55 ارب روپے، یعنی 33.4 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ اس میں سے 61 کھرب 79 ارب روپے، یعنی 22.3........
