Dakhli Aman Ki Paidar Bunyad
داخلی امن کی پائیدار بنیاد
دہشت گردی کے معاصر منظرنامے کو اگر صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود کرکے دیکھا جائے تو اس بحران کی حقیقی ساخت ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جائے گی۔ اکیسویں صدی کی سلامتی کی جنگ اب محض سرحدوں پر فوجی صف بندی کا نام نہیں، یہ اطلاعات، نظریات، معیشت، سائبر دنیا، خفیہ معلومات، سرحدی نظم، مقامی حکمرانی اور عوامی اعتماد تک پھیلی ہوئی ایک کثیرالجہتی کشمکش ہے۔ کوہاٹ کی پولیس لائنز میں 18 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا حملہ اسی وسیع تر بحران کی ایک سنگین مثال ہے۔ بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے کے بعد مسلح افراد نے پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں سرکاری حکام کے مطابق 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے، جبکہ کلیئرنس کارروائی میں 8 حملہ آور مارے گئے۔
ستمبر کے آخری ایام کے واقعات نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ میں امن میلہ کے مقام پر قائم جوائنٹ چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں تازہ رپورٹ کے مطابق 15 افراد شہید ہوئے، جن میں 8 اہلکار، دو خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل تھے۔ حملے کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور دو ریسکیو اہلکاروں کی شہادت کی اطلاع سامنے آئی۔ یوں دہشت گردی نے نہ صرف حفاظتی چوکی بلکہ انسانی امداد کے نظام کو بھی خطرے سے دوچار کیا۔
یہ واقعات اس بنیادی سوال کو سامنے لاتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی ردعمل صرف حملے کے بعد کارروائی تک محدود رہ سکتا ہے........
