menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aman Ya Mukhtasar Waqfa e Jang?

17 0
24.06.2026

بین الاقوامی سیاست کے طویل اور پرپیچ منظرنامے میں بعض تنازعات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جنہیں سفارتی موشگافیوں، عارضی مفاہمتوں اور وقتی معاہدات کے ذریعے وقتی طور پر موقوف تو کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے پس منظر میں کارفرما تاریخی، نظریاتی، سیاسی اور تزویراتی محرکات کا استیصال کیے بغیر ان کے لیے کسی پائیدار اور دیرپا استحکام کی ضمانت فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مابین جاری کشمکش بھی اسی نوع کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی تنازعات میں شمار ہوتی ہے، جس کی بنیادیں محض جوہری پروگرام، اقتصادی تعزیرات یا علاقائی نفوذ و اثرورسوخ تک محدود نہیں بلکہ تقریباً نصف صدی پر محیط فکری، نظریاتی، سیاسی اور سلامتیاتی اختلافات کی تہوں میں پیوست ہیں۔ یہی سبب ہے کہ موجودہ مرحلے پر جب جنگ بندی، مذاکرات اور ممکنہ مفاہمتی خاکوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے تو تہران کی ترجیح کسی نئی "ڈیل" کے حصول سے کہیں بڑھ کر ایک ایسے جامع اور پائیدار تصفیے کی جستجو معلوم ہوتی ہے جو تنازع کے بنیادی اسباب و علل کو ہی رفع کر دے۔

ایرانی زاویۂ نگاہ کے مطابق موجودہ بحران کو صرف یورینیم کی افزودگی، بین الاقوامی معائنہ جاتی نظام یا جوہری نگرانی کے تناظر میں محدود کر دینا حقیقتِ حال کی ادھوری اور سطحی تعبیر ہوگی۔ تہران کا استدلال یہ ہے کہ انقلابِ اسلامی کے فوراً بعد سے اسے مسلسل سیاسی دباؤ، اقتصادی محاصرہ، سفارتی تنہائی اور متنوع نوعیت کے سلامتیاتی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایرانی قیادت کے نزدیک اصل قضیہ اس کے جوہری پروگرام سے زیادہ اس کی خودمختار........

© Daily Urdu